Ads

ٹھرکی سسر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکمل کہانی

ٹھرکی  سسر 


مکمل کہانی 

میرا بیٹا جوانی میں ہی ایک کار ایکسڈنٹ میں جان بحق ہو گیا تھا ہم شدید صدمے میں تھے اس کی موت کے کچھ ہی عرصے کے بعد میری بیوی یعنی میرے بیٹے کی ماں صدمہ برداشت نا کر سکی
اورا س دنیا سے چلی گئی اپنے بیٹے کے پاس 
میری بہو جسکا نام فرح تھا وہ جوان اور خوبصورت زندہ دل لڑکی تھی لیکن اب بجھی بجھی رہنے لگی تھی
اسکا ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا اور میرے بیٹے کو فوت ہوئے ایک سال ہو گیا تھا ہمارے گھر کئی رشتہ دار آتے رہتے تھے دل لگا رہتا تھا ان دنوں اتفاق سے کوئی نہیں آ رہا تھا ایک دن میں نے دیکھا
کہ بہو چھت پہ ساتھ والے جوان لڑکے میں دلچسپی لے رہی ہے میری غیرت گوارا نا کی لیکن میں سمجھ گیا کہ اب اسنے سیکس ہر صورت کرنا ہے اس کی مجبوری ہے
لیکن بچہ چھوٹا ہے اس لیئے ابھی شادی بھی نہٰں کرنا چاہتی میں پریشان ہو گیا کیا کروں ایک دن کیا ہوا میں اور میری بہو گھر پر اکیلے تھے رات کے بارہ بجے ہونگے
میں اپنے کمرے سے نکل کرنیچے واشروم کی طرف جارہا تھا میرے ساتھ والا کمرہ میری بہو کا تھا ہوا یوں کہ میں اسکے کمرے کے پاس سے گزر رہا تھا کے اچانک میری نظر فرح کے روم میں پڑی تو وہ سورہی تھی
وہ اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتے پلاتے شاید سوگئی تھی اور اپنے بوبز کو اندر کرنا بھول گئی تھی اسکے ممے نظر آرہے تھے گورے گورے نہائیت خوبصورت مجھے اپنی جوانی والی بیوی کی طرح نظر آنے لگی
لیکن وہ میری بہو تھی میں نا چاہتے ہوئے بھی اس کو دیکھ رہا تھا مجھے وہ چھت والی حرکت ذہن میں آئی اور میں کچھ اور ہی طرح سے سوچنے لگا تھا یار میری تو نیت خراب ہونے لگی تھی اسکے گورے ممے اور اسکے اور گلابی نیپل میرا دل کر 
رہا تھا کہ جاکر دودھ کو چوسنے لگ جاؤ


پھر میں نے سوچا کہ اگر وہ اٹھ گئی اور وہ برا مان گئی تو میں نے سوچا کوشش کرنے میں کیا ہرج ہے میں دھیرے سے کمرے میں گیا اور بستر کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا
وہ سوتے ہوے بہت خوبصورت لگ رہی تھی میں نے دھیرے سے اسکے بچے کو اٹھایا اور صوفے پر لٹادیا میری قسمت اچھی تھی کہ اسکا بچہ اٹھا نہیں تھا
میں بیڈ پر بیٹھا اور اسکے ساتھ لیٹ گیا اسکے بوبز کو  ٹھرکی کی طرح چوسنے لگ پڑا
مجھے اپنی جوانی کے دن یاد آگئے جب میں اپنی بیوی کے ساتھ اسی طرح دوران نیند کئی بار سیکس کرتا تھا بڑا مزہ آرہا تھا اسے یہ لگ رہا تھا کے اسکا بچہ ہی ہے جو ممے لے رہا ہے میں سافٹ طریقے سے ممے لے رہا تھا
میں نے تھوڑی دیر کے بعد اپنا ہاتھ اسکے دوسرے بوبز پر رکھا اور آرام آرام سے مسلنے لگا اسے مزہ تو آرہا تھا پھر اچانک اسکی آنکھ کھلی وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی
اور بولی کے یہ آپ کیا کر رہے ہے میں نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسکے ممے کو پکڑ کر چوسنے لگا تھوڑی دیر کےبعد وہ گرم ہوگئی پھر میں اسکے ممے کو دبانے لگا
میرا کمزور ہو چکا لن بھی توانائی محسوس کرنے لگا تھا اور میرا دل کر رہا تھا کہ ایک دم سے اس کی جوان گرم ترستی چوت میں لن ڈال دوں دونوں کو سکون مل جائے
کیا مزہ آرہا تھا اسکے نرم نرم ممے کو دبا کر میں تھوڑی دیر تک دباتا رہا پھر بہو کو بستر پر لٹایا اور اسے کس کرنا شروع ہوگیا وہ بھی مجھے چومنے لگی
اور میں دس پندرہ منٹ تک اسکو چومتا رہا پھر اسکی قمیض اتاری کیا ممے تھے جیسے کبھی کسی نے استعمال ہی نہیں کیا تھا میں تو اسکے بڑے ممے کو پاگلوں کی طرح  چوسنے لگا
وہ گرم ہوچکی تھی جب میں اسکے ممے کو دبا رہا تھا تو اسکی آوازیں نکل رہی تھی اور وہ بھی سیکس کرنے کی خواہش مند ہو چکی تھیں پھر میں کھڑا ہوا اپنی پینٹ اتاری وہ اٹھ کر نیچے جھکی میں نے لوڑا نکالا اسکے منہ میں ڈال دیا وہ چوسنے لگی کیا مزہ مل رہا تھا
جب وہ لوڑا کو چوس رہی تھی تو میرا لورا اور بھی توانا ہونا شروع ہو گیا تھا اور فل کھڑا ہو چکا تھا کئی منٹ تک وہ میرے  لوڑا کو چوستی رہی
پھر اسکی چدائی کا وقت ہو گیا تھا اور مجھے اسکو چود کے اسکی جوانی کی پیاس کو ختم کرنی تھی پھر وہ بستر پر سیدھی لیٹ گئی میں نے اسکی شلوار اتاری لوڑا اسکی پھدی پر رکھا اور آرام سے اندر باہر کرنے  لگا پھر ایک زبردست دھکے سے اندر ڈال دیا اسکی زور دار چیخ نکلی
میں اپنی گانڈ کو زور زور سے آگے پیچھے کرنے لگا اسکی چیخیں نکلتی رہی شائد اس نے چوت دوبارہ سے کنواری کی طرح ہو گئی تھی ایک سال سے چدائی نہیں ہوئی تھی
میں اسے ایک گھنٹے تک چودتا رہا پھر اسکے نکیلے نپلز والے ممے کو دبانے لگا پھر  لوڑا نکالا اور اسے سے چسوانے  لگا
بڑا مزہ آرہا تھا اسے چود کر پھر جب مجھے محسوس ہوا کہ میری مٹھ نکلنے لگی ہے تو میں لوڑا کو ہاتھ میں پکڑا اور خوب ہلاتے ہوے منی اسکے ممے پر نکال دی میں نہیں 
چاہتا تھا کہ اپنی بہو کو حاملہ کروں


ختم شده 

Post a Comment

0 Comments