شادی کے بعد
قسط۔۔۔۔۔۔ 2
ہمارے جانے کے بعد عالیہ نے دروازے بند کر دیئے اور تمام کھڑکیاں بھی چیک کر لیں۔ باقی کے واقعات عالیہ نے مجھے بتائے ۔۔۔اسی کی زبانی سنیے ۔۔۔
مسٹر اور مسز احمد کے جانے کے بعد میں بچیوں کے پاس آگئی ان کا کھیلنے کا موڈ تھا چناچہ میں ان کے ساتھ رہی۔ ۔۔ ٹھیک آٹھ بجے میں نے ان کو دودھ کا گلاس دینے کے بعد سونے کے لیے اوپر ان کے کمرے میں لے گئی ۔۔۔۔
اوپر کی منزل پہ تین بیڈ روم تھے۔ دائیں جانب پہلا کمرہ مسز احمد کی ساس یعنی ہانیہ کی دادی اماں کا تھا دوسرا ماسٹر بیڈ روم تھا جو والدین کے استعمال میں تھا دوسری جانب بچیوں کا کمرہ تھا۔ ان کمروں میں اٹیچ باتھ بھی تھے۔۔ بچیوں کا کمرہ خاصا کھلا تھا۔ ایک طرف دونوں کے بیڈ لگے تھے اس کے سامنے بچیوں کے کپڑوں کی الماری تھی۔ سامنے کے حصے میں قالین بچھا کر کھلونوں کے ریک اور ایک چھوٹا سا خیمہ لگا تھا۔۔ یہ کھیلنے کی جگہ تھی۔۔ بچیاں خیمے میں بہت خوشی سے کھیلتی تھیں۔ اس میں ٹارچ لائٹ اور کچھ کھلونے تھے نیچے ایک نرم گدا بچھا ہوا تھا ۔۔۔۔
بچیوں کے بستر ٹھیک کرنے اور ان کو برش کروانے کے بعد ان کے بستر پر لٹا دیا ۔۔۔
ہانیہ کا سونے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ کہانی سننا چاہتی تھی۔۔۔۔
میں نے ایک کہانیوں کی کتاب کھلونوں کے ریک سے نکالی جو ہانیہ کی پسندیدہ تھی اور اس میں سے کہانی سنانے لگی۔ اس دوران میں شائنہ سو گئی تھی ۔ ۔۔ ہانیہ کو شب بخیر کہہ کر میں نے دروازہ بند کیا اور نیچے آگئی۔ گھڑی کی سوئیاں نو بجا رہی تھیں۔ ۔۔۔
مجھے کچھ بھوک لگ گئی تھی میں نے فریج میں جھانکا تو پاستہ اور ایک پزا موجود تھا۔۔
میں نے پزا کے دو سلائس کاٹے اور گرم کرنے اوون میں رکھ دیے۔۔۔
گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی ۔ ۔۔ مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی تو ماں کو فون ملایا۔۔۔
ان سے بات کر کے کافی سکون محسوس ہوا۔۔ ان سے اپنی گھبراہٹ کا ذکر کیا تو وہ بولیں ۔۔" اکثر نئی جگہ پہ ایسا ہوتا ہے دن میں جہاں کوئی الجھن نہیں ہوتی وہاں رات میں عجیب سی اجنبیت محسوس ہوتی ہے ۔۔ تم پریشان نہ ہو۔۔ دو گھنٹے میں گھر والے آجائیں گے تو تم آجانا۔۔۔ میں تمہارے انتظار میں جاگ رہی ہوں ۔۔"
یہ بات سن کر مجھے بھی حوصلہ ہوا۔ واقعی میں خوامخواہ گھبرا رہی تھی ۔۔۔ فون بند کر کے میں وہیں کھڑی سوچ رہی تھی کہ اچانک اوون کی بیپ ہوئی اور میں اچھل پڑی ۔۔۔
" اوہو ۔۔۔ مجھے کیا ہو گیا ہے ؟ " میں نے خود کلامی کی اور اوون سے پزا نکال کر فریج سے ایک سوڈا کین لے کر لاونج میں آگئی۔۔۔
ٹی وی لگانے کے لیے جب ریموٹ کے لیے نظر دوڑائی تو وہ کہیں نظر نہ آیا۔۔۔
میں نے صوفہ ۔ کشن ۔ میز کے نیچے ہر جگہ تلاش کیا مگر اسے نہ ملنا تھا نہ ملا ۔۔۔
تھک کر میں صوفے پہ بیٹھ گئی اور پزا کھانے لگی۔ ۔۔
ابھی میں نے دو تین نوالے ہی کھائے ہوں گے کہ مجھے ہنسنے کی آواز سنائی دی ۔ ۔۔
میں نے پلیٹ میز پر رکھ کر سیڑھیوں کے پاس آکر کان لگائے ۔۔۔
اسی وقت دوبارہ ہنسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔
" یہ دونوں ابھی سوئی نہیں ہیں" میں دل میں کہتی اوپر آگئی ۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا جبکہ مجھے یاد پڑتا تھا کہ میں اسے بند کر کے گئی تھی ۔۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔۔۔
کمرے میں نائٹ لیمپ کی نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔۔
چھوٹی بیٹی شائنہ اپنے بستر پر بےخبر سو رہی تھی لیکن ہانیہ کا بستر خالی تھا۔۔۔
میں نے نظر گھمائی تو خیمہ میں روشنی نظر آئی ساتھ ہی بچی کا سایہ بھی تھا ۔۔۔
میں خیمہ کی طرف گئی اور نیچے بیٹھ کر اسے کھولنے لگی۔۔۔
ہانیہ۔۔۔" ساتھ ہی میں نے دھیرے سے کہا ۔۔
" آپی... میں یہاں ہوں۔۔" مجھے اپنے پیچھے سے آواز آئی میں نے بیٹھے بیٹھے گردن گھما کر دیکھا تو ہانیہ بیڈ کے نیچے تھی ۔۔۔ اس نے اشارہ کیا کہ وہ خیمہ میں نہیں ہے۔۔۔
میرا دماغ چکرا کر رہ گیا میں نے آگے بڑھ کر خیمہ کھول دیا اس میں کوئی نہ تھا ۔۔۔ ٹارچ جل رہی تھی ۔۔۔۔
میں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔ میں نے شائنہ کو سوئے ہوئے ہی گود میں اٹھایا اور ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترتی چلی گئی ۔۔۔
مگر ہانیہ نے ہاتھ چھڑا کر واپس اوپر کی طرف جانا چاہا ۔۔
میں نے اسے رکنے کو کہا۔۔۔ شائنہ کو صوفے پہ لٹا کر میں نے اسے بلایا۔۔۔
" میں واپس جا رہی ہوں ۔۔۔ سونے کے لیے۔۔ " اس نے کہا اور سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔۔
" وہ لارا تھی میری فرینڈ ۔۔۔ امیجنری فرینڈ۔۔
اس نے کہا تو میں سناٹے میں رہ گئی ۔۔۔
" تم بستر کے نیچے کیوں تھیں؟ " میں نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
اس کی ماما آگئی تھی ۔۔۔ وہ مجھے اچھی نہیں لگتی ۔۔۔ ڈراتی ہیں۔۔۔ " وہ نارمل انداز میں بتا رہی تھی۔۔۔
میرا دماغ چکرا رہا تھا ۔۔۔ خیمہ میں ضرور کوئی تھا ۔۔۔ کون تھا وہ یا میرا وہم تھا۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔
اس دوران ہانیہ اوپر چلی گئی اور میں ساکت بیٹھی چھوٹی کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
جو کچھ بھی تھا اس کا واسطہ اوپر کی منزل سے تھا۔۔۔ میرا وہم تھا یا حقیقت ؟؟
ہانیہ کو نیچے لے آتی ہوں جب تک ان کے والدین نہیں آجاتے ۔۔۔
یہ سوچ کر میں ایک نظر سوئی ہوئی شائنہ پہ ڈال کر اوپر جانے لگی۔۔۔
راہداری روشن تھی... دائیں جانب کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا یہ وہی کمرہ تھا جہاں احمد صاحب کی والدہ رہتی تھیں ۔۔۔
یہ کمرہ اس دن سے ہمیشہ مقفل کیا جاتا تھا جب سے چھوٹی بیٹی شائنہ وہاں باتیں کرنے لگی تھی ۔۔۔
یہ دروازہ کیوں کھول دیا ہانیہ نے۔۔۔ یہ سوچتی میں کمرے کے پاس آگئی ۔۔۔
" ہانیہ۔۔۔ کہاں ہو آپ؟ " میں نے آواز دی ساتھ ہی دروازہ کھولا ۔۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔۔۔ میں نے لائٹ کا بٹن تلاش کیا بٹن دباتے ہوئے میں نے الماری میں آہٹ سنی ۔۔۔
کمرہ خالی تھا۔۔۔ کمرے کے وسط میں بیڈ بچھا تھا اس کے سامنے والی دیوار میں ایک بڑی کھڑکی تھی۔۔ بیڈ کے دوسری طرف ایک دیوارگیر الماری تھی۔۔۔
آہٹ وہیں سے سنائی دی تھی ۔ میں پریشانی سے الماری کی طرف گئی۔۔۔
ہانیہ۔۔۔ آپ یہاں ہو؟ " میں نے اس کے ہینڈل کو چھوا۔۔ اسی وقت میرے پاؤں پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ ہانیہ ہمیشہ بیڈ کے نیچے چھپ کے کھیلتی تھی۔۔۔
میں نے دیکھے بنا کہا " یہ کھیلنے کا وقت نہیں ہے ۔۔ " اسی دم پیچھے سے آواز آئی ۔۔
" آپی ۔۔ میں یہاں ہوں" میں نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا تو ہانیہ دروازے میں کھڑی تھی۔۔۔
تو یہ ہاتھ کس کا تھا۔۔؟؟ میں نے نیچے دیکھا تو ایک سفید سا بازو نظر آیا اور میرے حلق سے چیخ نکل گئی ۔۔۔۔
میں بری طرح دوڑتی ہوئی نیچے آگئی ہانیہ میرے ساتھ تھی۔۔۔
میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی ۔۔۔ مجھے جانا ہوگا۔۔۔ چلو بچو ۔۔۔ ہمیں جانا ہوگا۔۔۔ ابھی۔۔" میں نے ہانیہ سے کہا اور شائنہ کو اٹھانا چاہا مگر صوفہ خالی تھا۔۔۔ شائنہ وہاں نہیں تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
0 Comments