Ads

شادي کے بعد ۔۔۔۔۔ آخری قسط

 شادی کے بعد 



آخری  قسط



پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک کمینٹ اور شیر کریں

شائنہ کے غایب ہو جانے سے میری حالت غیر ہو گئی۔۔۔ میں چیخ چیخ کراسے آوازیں دینے لگی ۔۔۔ 

ہانیہ بھی ڈر گئی تھی مجھے کوئی جواب نہ ملا تو میں صوفے پہ گر کر رونے لگی میرا ذہن ماؤف ہو گیا تھا۔ ہانیہ مجھ سے لگ کر رونے لگی ۔۔۔ اسے روتا دیکھ کر میں نے خود کو سنبھالا ۔۔۔ 

مجھے ہمت کرنی ہوگی۔۔ ایسے کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ میں ان بچوں کی نگران تھی۔ میں انہیں کچھ نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔۔ 

چاہے کچھ بھی ہو جائے مجھے بچیوں کی حفاظت کرنی ہو گی۔۔۔ میں نے آنسو پونچھ ڈالے۔۔۔ 

ہانیہ کو ساتھ لپٹا لیا اس کو تسلی دی اور کہا کہ" ہمیں شائنہ کو ڈھونڈنا ہے ہم اسے پورے گھر میں تلاش کریں گے۔۔۔ 

وہ کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔ وہ یہیں ہو گی اسی گھر میں ۔۔۔ " 

یہ سب سمجھانے کے بعد ہم نے شائنہ کو ڈھونڈنا شروع کر دیا نیچے ڈرائنگ روم اور ٹی وی لاونج کے علاوہ ایک اسٹڈی روم بھی تھا۔ 

میں وہاں گئی ہانیہ بھی میرے پیچھے پیچھے تھی ۔۔۔ 

پورا کمرہ خالی تھا وہاں کوئی نہ تھا ۔۔ میں نے شائنہ کو آواز دی مگر کوئی جواب نہ ملا۔۔۔ 

ہانیہ باہر نکل گئی میں اس کے پیچھے ہی باہر آگئی تھی ۔۔۔ 

میں نے سوچا فون کروں اور مسز احمد کو یہ سب بتاؤں ۔۔ مگر وہ میری بات کا یقین نہ کرتیں اور شائنہ کا خیال نہ رکھنے کے لیے الٹا مجھے سرزنش کرتیں۔۔۔ میں نے شائنہ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ۔۔۔ 

وہ کہاں جاسکتی ہے؟ ۔۔۔ کہیں اپنی دادی اماں کے کمرے میں تو نہیں چلی گئی۔۔۔ 



یہ خیال آتے ہی میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔ اس کمرے میں ہی وہ ہاتھ دکھائی دیا تھا۔۔۔۔ مگر بچی کو اگر کچھ ہو جاتا تو میں اپنے آپ کو زندگی بھر معاف نہ کرتی۔۔۔ 

میں سیڑھیوں کے قریب آئی اسی وقت مجھے رونے کی آواز سنائی دی ۔۔۔ آواز اوپر سے ہی آرہی تھی ۔۔ 

شائنہ ۔۔۔۔ وہ اوپر تھی۔۔۔۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگی ۔۔۔۔ ہانیہ مجھے روکنا چاہتی تھی۔۔۔ 

مگر میں نے اسے وہیں رکنے کا کہا اور خود اوپر چڑھنے لگی۔۔۔۔ راہداری بالکل سنسان پڑی تھی ۔۔۔ میں وہیں کھڑی سننے کی کوشش کر رہی تھی کہ آواز کہاں سے آئی تھی۔۔۔؟ 

اسی وقت میں نے دوبارہ رونے کی آواز سنی ۔۔۔ آواز بالکل مدھم سی تھی۔۔۔ میں آہستہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی کمرے کے قریب آئی ۔۔۔ وہی خوفناک کمرہ ۔۔۔ 

میں نے دروازے سے کان لگایا۔۔۔ آواز اندر سے آرہی تھی۔۔۔ میں نے جلدی سے ہنڈل گھمایا مگر وہ نہ گھوما ۔۔۔ دروازہ لاک تھا۔۔۔ 

میرا سر بھاری ہونے لگا۔۔۔ یہ دروازہ کھلا تھا جب میں اور ہانیہ نیچے بھاگے تھے۔۔۔ 

مگر اب یہ لاک تھا اور چھوٹی بیٹی شائنہ اندر تھی۔ اسے کھولنا ہو گا۔۔۔ میں نے زور زور سے دروازہ دھڑدھڑایا مگر وہ نہ کھلا ۔۔۔ رونے کی آواز بند ہو گئی تھی ۔۔۔ میں نے چابی کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔اسی وقت راہداری کے آخری حصّہ میں مجھے وہ خطرناک روح نظر آئی جو شاید لارا کی ماں تھی ۔۔۔ 

اس منظر کی یاد مجھے عمر بھر دہلاتی رہے گی۔۔۔۔ وہ ایک عورت تھی مگر اس کا چہرہ بگڑا ہوا تھا ۔۔۔ آنکھیں بالکل سفید اور لباس مٹیالا جس پہ خون کے دھبے سیاہ ہو چکے تھے ۔۔۔ اس نے مجھے دیکھا۔۔۔۔

 اور خوف سے میری حالت غیر ہونے لگی۔۔۔۔۔ 

 وہ زمین پہ نہیں تھی بلکہ چھت سے لگی تھی اس کے پاؤں ہوا میں تھے۔۔۔۔ 

اسی وقت ہانیہ بھی اوپر آگئی ۔۔۔۔ 

اس نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا ۔۔۔۔ میری آنکھوں کے سامنے اچانک اس کمرے کا دروازہ کھلا اور ہانیہ ایک جھٹکے سے اس میں چلی گئی ۔۔۔ دروازہ دوبارہ بند ہوگیا ۔۔۔ 

" نہیں ۔۔۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتی ۔۔۔۔" میری چیخ گلے میں گھٹ کر رہ گئی ۔۔۔

میں دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔اسی وقت وہ میرے کان کے قریب چلائی ۔۔۔۔" لیو اس الون۔۔۔۔" ہمیں اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔۔ وہ تو میرے پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔ مجھے ایک زور دار جھٹکا لگا اور میں ہوا میں اڑ کر سیڑھیوں سے ٹکرائی اور لڑھکتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے جا گری ۔۔۔ میرا سر ریلنگ سے ٹکرایا ۔۔۔۔ اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔ بے ہوش ہونے سے پہلے آخری آواز جو میں نے سنی وہ ہانیہ کی چیخ کی آواز تھی ۔۔۔ اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

یہاں تک کے واقعات عالیہ نے مجھے سنائے۔۔۔ 

ہم جب کھانے کے بعد گھر پہنچے تو گاڑی سے نکلتے ہی ہمیں ہانیہ کی چیخیں سنائی دیں ۔۔ 

میں اور میرے شوہر گاڑی بند کرنا بھول کر گھر کے اندر بھاگے دیکھا تو عالیہ سیڑھیوں کے نیچے بے ہوش پڑی تھی اور اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔ 

ہانیہ اور شائنہ اوپر چلا رہی تھیں ساتھ ہی دروزہ پیٹنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔۔۔ 

ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا تھا۔۔۔ 

عالیہ کی حالت کافی خراب تھی۔۔۔ میرے شوہر نے ایمبولینس کو فون کیا اور میں اوپر بھاگی۔۔۔

اوپر پہنچی تو دیکھا کہ میری ساس کے کمرے سے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں میں نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا۔۔۔ اندر دونوں بچیاں بند تھیں رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔ 

ہانیہ کے بائیں گال پہ نیل پڑا تھا اور ہونٹ بھی پھٹا ہوا تھا۔۔۔ اس نے مجھے دیکھا تو روتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی ۔۔۔ شائنہ زمین پہ لیٹی تھی اس کے ہاتھ میں ایک ڈائری تھی۔۔۔ 

میں نے اسے گود میں لیا اور نیچے آگئی ۔۔۔ 

عالیہ کے لیے ایمبولینس آگئی تھی ۔۔۔ وہ ابھی تک بےہوش ہی تھی۔۔۔ ہانیہ اسے دیکھ کر آپی ۔۔۔ آپی ۔۔۔ چلانے لگی۔۔۔ آپی کو کیا ہوا؟ " 

وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ 

میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔ 

ہم سب ہسپتال چلے گئے ۔۔۔ عالیہ کی والدہ کو اطلاع دے دی گئی تھی وہ بھی وہاں آگئی تھیں ۔۔۔ 

ڈاکٹروں نے بتایا کہ عالیہ کو گہری چوٹیں نہیں ہیں وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔ اور ہانیہ کو بھی دوا دی۔۔۔ ہانیہ نے مجھے بتایا کہ دادی اماں اسے کمرے میں لے گئی تھیں اور شائنہ کو بھی ۔۔۔ 

ہم نے وہاں یہی کہا کہ دونوں سیڑھیوں سے گر گئی تھیں ۔۔۔ شائنہ کے پاس جو ڈائری تھی وہ میری ساس مرحومہ کی تھی ۔۔۔ 

اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس گھر میں کئی سال پہلے ایک ماں بیٹی کو قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔۔ پولیس کو قاتل کا سراغ نہ مل سکا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ باپ ہی ان دونوں کا قاتل تھا۔۔۔ ان کی روح اب تک وہیں تھی ۔ وہ وہاں کسی کو اباد نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔۔ 

میری ساس نےایک روحانی عمل کے ذریعے ان کو اپنے کمرے تک محدود رکھا تھا مگر ان کی وفات کے بعد وہ بچیوں پہ حاوی ہونے لگی تھیں ۔۔۔ دوسرے روز عالیہ نے جب یہ سب واقعات سنائے تو مجھے اپنی ساس کی بات یاد آئی کہ " یہاں سے چلے جانا ۔۔ یہاں مت رکنا۔۔۔"

عالیہ نے جو کیا میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتی تھی اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا تھا۔۔۔ 

ہم نے اسی ہفتہ مکان بدل لیا ۔۔۔ اس عرصہ بھی میں بچوں کے ساتھ ایک ملنے والوں کے گھر رہی۔۔۔۔۔ 

میری بچیاں اور عالیہ آج بھی بہت اچھے دوست ہیں اور عالیہ اور اس کی والدہ ہمارے گھر کے فرد کی طرح ہیں۔۔۔ 



 ۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شده۔۔۔۔۔۔



Post a Comment

0 Comments