گندی فلمیں
ہمارے ہاں ہر نوجوان اور عورت جن کو بلیو
(پورن۔ ایکس فلمیں گندی فلمیں )
دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس کو دیکھنے کے بعد۔۔
ہر نوجوان اس بات سے پریشان ہے کہ یار کیسے اتنے لمبے عرصے تک ایک مرد عورت پر سواری کر لیتا ہے اور فارغ نہیں ہوتا اور آخر ہم ایسا کیوں نہیں کر پاتے؟
اور کُچھ عورتوں کے ذہن بھی ایسا سوچتا ہین کہ ان فلموں کے مرد کیا لوہے کے بنے ہیں لگے رہتے ہیں۔۔۔ دیکھنے والے خارج ہو جاتے ہیں کرنے والے نہیں۔
ایسا کیسے ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ذرا سوچئے
پہلی بات تو یہ ہے کہ انگریزوں میں بھی ہر کوئی ان فلموں میں کام کرنے کے لئے راضی نہیں ہوتا یہ لوگ ایک کردار ہوتے ہیں جیسے عام فلموں مٰیں ایکٹر اور ایکڑریس ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایک پورن فلم ڈرائیکٹر ایک فلم بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے
وہ مارکیٹ میں موجود مُختلف پورن ایکٹرز سے رابطہ کرتا ہے ۔
مُختلف ایکڑز سے مُلاقات ہوتی ہے اور اُن کو سکرپٹ دیکھایا جاتا ہے۔ کہ اس طرح
شوٹنگ کرنی ہے ۔۔مثلا اگر ایک سین جس میں سمارٹ لڑکی کو ایک کالے حبشی سے سیکس کرنا ہے جس کا عضو بارہ انچ لمبا ہے تو وہ اس کے لئے
خوفزدہ ہوتی ہے اور اس کے لئے ایک ٹیسٹ کا مطالبہ کرتی ہے کہ پہلے میں اس کا اندازہ کروں گی کہ کتنا میں لے سکتی ہوں اس کے بعد ایک ٹیسٹ ہوتا ہے اب جتنا وہ برداشت کر پاتی ہے اُس پیمائش کے مطابق وہ ایگریمنٹ کر لیتی ہے کہ جنسی عمل کے دوران کالا مرد میرے اندر صرف اتنا ڈالے گا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے کیونکہ اگر وہ کُھلی چُھوٹ دے دے تو اُس کی جان بھی جاسکتی ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ہر طرح کی جنیست کی اقسام کے متعلق شوٹنگ کا مکمل خاکہ ایکٹرز کو پہلے سمجھایا جاتا ہے اور وہ اگر اس سے مطمن ہوتے ہیں اور رقم کا معاملہ طے کیا جاتا ہے کام جتنا مُشکل ہو رقم ریٹ اتنا ہی ذیادہ ہو گا ۔۔۔۔
اس کے بعد شوٹنگ کے آغاز سے پہلے ایک گھر کرائے پر حاصل کیا جاتا ہے
ایکٹرز کی ڈریسنگ ہوتی ہے ۔۔ اور سب سے اہم اُن کا اچھا خاصا میک اپ کیا جاتا ہے جن میں سب سے زیادہ دلچسپ جنسی اعضا اور جسم کا چہرے سے ہٹ کر مُختلف حصوں کا میک اپ شامل ہے جیسے۔۔۔۔ عورت کی اندام نہانی کے اردگرد
نیچے جو ڈارک شیڈوز ہوتی ہیں اُن کو بیس لگا کر یا کوئی اور مٹیریل لگا کر باقی جسم کے رنگ سے مشابہ کیا جاتا ہے ۔۔ جسمانی میک اپ بھی ایک لمبی بحث ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایک سے ذیادہ کیمرہ ۔۔۔ لائٹنگ کی جاتی ہے جن کا مقصد
جسم کے ہر حصے کو واضع کرنا اور پھر انسٹرکشن کے لئے ایک مرد پوز کی مکمل رہنمائی کرتا ہے پوری ایک ٹیم جس میں چھ سے سات افراد کام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ حتہ کہ چیخوں آوازوں کے متعلق بھی لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ درد ہو نہ ہو مُنہ سے ایسی آوازیں نکالتی رہو۔۔۔۔ اور ذرا سی غلطی پر شوٹنگ روک بھی دی جاتی ہے۔۔ اور ایک پوز میں اگر کام مُکمل ہو گیا تو ۔۔ شوٹنگ روک کر اگلے دن
۔۔دوسرا پوز ۔۔۔اُس سے اگلے دن تیسرا پوز ۔۔۔۔
اس طرح ایک سین کم از کم چار سے پانچ دن میں مکمل فلمایا جاتا ہے۔
اور ہم لوگ ایک فلم دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یار دیکھو ایک گھنٹے سے لگا ہوا ہے یار کیمرہ ہے جب مرضی بند کرلو جب مرضی چاہے ایک مہینے بعد وہاں سے پھر شروع کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ساری تفصیل آپ کو بتانے کا مقصد صرف یہ تھا
کہ ہم کو ان فلموں سے متاثر ہو کر اپنے جسم کے متعلق نہیں سوچنا چاہئے۔کیونکہ یہ فلم ہے حقیقت نہیں بہت سی عورتیں شکایت کرتی ہیں کے ہمارے شوہر پورن فلم دیکھ کر ویسا ہی کرنے کو بولتے ہیں عضو حاص چوسنے یاکس کرنے کو بولتے ہیں پھر اسی بات پرلڑائی ہوجاتی ہےاور پھر مباشرت نہیں ہوپاتی میری نظر میں یہ اچھی بات نہیں ہے بیوی کو بیوی کا درجہ دیں بازارو عورت نہ سمجھے آج کے دور میں مرد ہو یا عورت شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ سب ہی پورن فلمیں دیکھتے ہیں فلمیں دیکھے پر ویسا کرنے کی کوشش نہ کریں حاص تور وہ لوگ گولیاں کھاتے سیکس بڑانے کے لیے یہ بہت نقصان دہ ہیں اس سے آپ موت بھی ہوسکتی ہے۔
آپ جیسے ہیں شکر کیا کریں انسان ہیں
حقیقی زندگی اور فلم میں بڑا فرق ہوتا ہے اور وہ فلمیں بھی منصوبہ بندی سے اور بڑی محنت سے تیار ہوتیں ہیں
0 Comments