Ads

کرشمہ آنٹی کی حسرتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط 2

 کرشمہ آنٹی کی حسرتیں

Part 2

 

 میں نےرفعت" کہہ کے اپنا تعارف کرایا۔ کرشمہ آنٹی نے دروازہ

"

کھوال تو پوری بھیگی ہوئی تھی۔ کاٹن کی آف-وائٹ سوٹ

میں سے انکے وجود کا ہر انگ نمایاں تھا۔ میں نے سودا دے

کے اجازت چاہی تو کرشمہ آنٹی نے اصرار کیا ہے۔ "اففف

کتنی گرمی ہے آج! بجلی بھی نہیں ہے، اندر آجاو... تمہیں تو

بہت پسینہ آرہا ہے۔.. کچھ پی کر جانا!" میں نے پھر سے کہا

امی انتظار کر رہی ہونگی لیکن کرشمہ آنٹی نے ہاتھ سے پکڑ

کر اندر کھینچا۔ مجھے بٹھا کے وہ سودا سلف لئے کچن کی

طرف بڑھی۔ انکو جاتے ہوئے دیکھا تو ان کی موٹی گانڈھ کے

ہچکولے دیکھ کر میں نے شرما کر نظر نیچے کر دی۔ لیکن

پندرہ سالہ بچہ بھی اب ویسے بچہ تو نہیں ہوتا۔ انکا مٹک

کے چلنا تو جیسے ذہن پہ نقش ہی ہوگیا۔ کرشمہ آنٹی نے

کچن سے جام شیریں کا شربت ال کے گالس مجھے تھما دیا۔

وہ گالس دینے کے لئے جھکی تو میری نظریں انکے گلے پر

پڑیں جس سے دوپٹہ سرک گیا تھا۔ انکی گیلی قمیض انکی

دودو سے ایسی چپک گئی تھی کہ ان کی سفید چھاتیوں پر

کالے رنگ کے لمبے نپلز مجھے چڑانے لگے۔ لجاجت سے میں نے

جلدی سے گالس پکڑا اور غٹاغٹ پی کر گالس انہیں واپس

کردیا۔ مجھے پسینہ آنے لگا تھا، لیکن گرمی کی شدت نے

میری غیر ہوتی حالت پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اس کے برعکس،

کرشمہ آنٹی گرمی کی شکایتیں کرتے اپنی حالت سے بے

پرواہ باتیں کئے جارہی تھیں جس پر میں بمشکل مسکرانے

کی سعی کرتا۔ کرشمہ آنٹی نے میرے پسینے دیکھ کر اک اور

گالس جام شیریں کا بھر کر مجھے پکڑایا، جسے میں ویسے

ہی غٹاغٹ پی گیا اور آنٹی سے اجازت لے کر وہاں سے نکل

آیا۔ انکے گھر سے اپنے گھر آنے تک مجھے آج شدت سے اپنے

انڈروئیر کے تنگ ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ گھر پہنچ کر

امی نے حالت دیکھی تو کھانے سے پہلے شاور لینے کا حکم

صادر فرمایا۔ میں جلدی سے واشروم گھس گیا۔ ٹی-شرٹ

اتار کے جینز پینٹ اتاری تو میرا لن کرشمہ آنٹی کی موٹی

گانڈ کے مٹکنے اور دودو کی سفیدی پر بڑے کالے نپلز کا

سوچ کے پھر سے بپھر گیا۔ میں نے جھنجھالہٹ میں لن کا

سر پکڑ کر مروڑا تو میٹھا سا درد محسوس ہوا اور مجھے

مزا آنے لگا۔ پہلی بار کرشمہ آنٹی کے خوبصورت بھرے وجود

کے تخیل میں میں نے اپنا لن رگڑ رگڑ کر ہیجانی کیفیت میں

اپنے گاڑھے پانی کو ٹائلٹ کی نذر کیا۔ اب تھوڑا سکون تو

مال لیکن ساتھ کی بے چینی اب مجھے اور ستانے لگی اور

میں اگلے کسی ایسے لمحے کا انتظار کرنے لگا کہ کب کرشمہ

آنٹی کو پھر سے ایسے دیکھنے کا موقع ہاتھ آئیگا۔ قسمت۔۔۔

کہ مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔

جس دن میں نے کرشنہ آنٹی کو دیکھا تھا، اس دن کے بعد

سے دو تین دفعہ وہ ہمارے گھر آئی تھی۔ جمعہ کے دن ابا

کی کام سے چھٹی ہوتی تھی۔ اسی لئے اس جمعہ کو وہ گھر

پر موجود تھے۔ کرشمہ آنٹی قریبا گیارہ بجے گھر ائی تھیاور ابا سے کہہ دیا تھا کہ جمعہ سے فارغ ہو کے رفعت یعنی

مجھے ان کے گھر بھیج دیں، گھر میں کچھ کام ہے۔ میں نے

جمعہ پڑھنے کو سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہن رکھی

تھی۔ نماز کے بعد ابا جی کے کہنے پر جا کر میں نے دروازے

پر دستک دی۔ کرشمہ آنٹی نے دروازہ کھوال۔ گرمی آج بھی

بال کی تھی۔ کرشمہ آنٹی نے پہلے مجھے پانی پالیا۔ پھر

انہوں نے کمرے میں بالیا۔ میں ان کے پیچھے چال گیا۔ کرشمہ

آنٹی نے سٹول اٹھایا اور لے جا کر واش روم کے عین بیچ

شاور کے نیچے رکھ دیا۔ پھر مجھے بالیا۔ میں اندر گیا تو

کرشمہ آنٹی نے دروازہ بند کر کے کہا،

"رفعت بیٹے! زرا دیکھ

لو اس شاور سے پانی بہت کم آتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں بند سا

ہو گیا ہے۔ یہ شاور پیس اتار کر دیکھ لو۔ میں اوپر سٹول پہ

چڑھا تو کرشمہ آنٹی نے دوپٹہ اتار کر دروازے سے باہر کمرے

میں پھینک دیا۔ ان کے بال سارے جوڑے میں بندھے تھے۔میں

نے اوپر سے نیچے ان کے گلے میں دیکھا تو ان کی 38 سائز

کے دودو کیا جیسے بڑے غبارے نظر آرہے تھے۔ کرشمہ آنٹی

نے اپنی نے آف وائٹ الن کی قمیض اور نیچے سفید شلوار

پہن رکھی تھی۔ میں نے شاور پیسس اتارا اور اس کے پورز

دیکھنے لگا۔ اندر تھوڑا گند بھی جمع تھا۔ میں نے اسے صاف

کیا۔ جب دوبارہ سٹول پہ چڑھ کر اسے فٹ کرنے لگا تو اس

میں سے پانی آنا شروع ہوگیا۔ کرشمہ آنٹی چالنے لگی، " ارے

۔۔۔ ارے۔۔۔ جلدی فٹ کرو، میرے سارے کپڑے گیلے کردئے۔ "

میں نے نیچے دیکھا تو کرشمہ آنٹی ساری بھیگ چکی تھی۔

ان کے وجود کا ہر انگ نمایاں تھا۔

 شاید وہ بھی یہی تو

چاہتی تھی۔ کرشمہ آنٹی نے مجھے دیکھا تو دیکھتی ہی

رہی۔ میرا خود پہ دھیان آگیا تو میرا کاٹن کا سوٹ بھی اب

نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں شرما کر نیچے اترا اور جیسے ہی

باہر نکل رہا تھا، کرشمہ آنٹی نے بازو دبوچ لیا۔ میں ہکا بکا

ہی تو رہ گیا تھا! کرشمہ آنٹی مجھے دالسہ دیتے، اور گیلے

کپڑوں کا کہتے کہتے خود کو مجھ سے مسل رہی تھی۔ وہ

بات کر رہی تو میری نظریں ان کے چہرے کی بجائے، انکے 38

سائز کے دودو پر جم گئیں۔ انکے بھورے نپلز انکی قمیض کو

جیسے پھاڑ رہے تھے۔ کرشمہ آنٹی نے مجھے تاڑتے ہوئے دیکھا

تو باتیں کرتے کرتے اپنے کھلے گلے میں ہاتھ ڈال کر ایک دودو

باہر نکاال اور مسکرا کر، مجھے تسلی دے کر، اپنا نپل میرے

منہ پر رگڑا۔ میں نے تھوڑا ڈرتے ہوئے نپل منہ میں لیا، پھر

چوسنے لگا۔ کرشمہ آنٹی نے ہاتھ نیچے جھکا کر میرا لن پکڑ

لیا۔ میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔

کرشمہ آنٹی نے دھمکی

آمیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "دیکھو رفعت، اگر تم مجھے

اپنے لن سے کھیلنے نہیں دو گے، تو میں تمہارے ابا کو بتا

دوں گی!" "ابا!!!" انکا تو سوچ کر ہی میرا رنگ فق ہو گیا۔

کرشمہ آنٹی نے شاور کو بند کردیا۔ اس کے بعد میرا سر پکڑ

کر اپنے دودو کے بیچ رگڑنے لگی۔

پھر دوسری چھاتی اپنی

قمیض کے گلے سے نکال کر میرے لن کو رگڑنے لگی...انکی

محنت سے چند ہی لمحوں میں میرا لن چھ انچ تک پھیل کر

کھڑا ہوگیا۔ کرشمہ آنٹی نے دیکھا تو خوشی سے اچھل پڑی

جیسے ان کی سالوں کی حسرت پوری ہونے جارہی تھی۔

لیکن میرا ڈر اب بھی اپنی جگہ ہی تھا۔ کرشمہ آنٹی نے

میرے ہونٹوں کی چمی لے کر

 

جاری ہے


Post a Comment

0 Comments