وطن کا سپاہی
قسط 2
قسط نمبر 1 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں
آدھا گھنٹہ مسلسل بھاگنے کے بعد میجر دانش کے پھیپھڑے جواب دینے لگے تھے۔ اسکا سانس دھوکنی کی طرح چل رہا تھا اب اس میں مزید بھاگنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر ایک انجانا خوف اسکو رکنے نہیں دے رہا تھا۔ کرنل وشال آخر پاکستان کا ایسا کونسا راز لے کر جا رہا تھا یہاں سے؟؟؟ وطنِ عزیز کو آنے والے خطرے کا سوچ سوچ کر میجر دانش کا حوصلہ اور بڑھ رہا تھا اور وہ بغیر رکے مسلسل بھاگتا جا رہا تھا۔ آخر کا ر میجر دانش کو دور ایک جہاز دکھائی دیا۔ جو روانگی کے لیے طیار تھا۔ لیکن یہاں سے ابھی بھی ایک کلومیٹر کا سفر طے کرنا باقی تھا جو میجر دانش نے تقریبا بھاگتے ہوئے ہی طے کیا۔ راستے مِں کچھ دیر کے لیے اپنے آپکو لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچانے کے لیے میجر دانش کسی چیز کی اوٹ لے کر رک بھی جاتا تاکہ وہ کرنل وشال کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔ جب میجر دانش جہاز کے بالکل قریب پہنچ گیا تو وہاں سے جہاز تک جانا میجر دانش کے لیے نا ممکن ہوگیا تھا۔
میجر دانش نے ایک بار سوچا کہ وہ یہاں موجود تمام سیکورٹی اہلکارز کو بتا دے کہ یہ پاکستانی یونیفارم میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب نہیں بلکہ راء کا ایجینٹ کرنل وشال ہے مگر پھر اس خیال کو بھی میجر دانش نے ترک کردیا، مبادا سیکورٹی اہلکار بھی بھیس بدل کر آئے ہوں اور حقیقت میں وہ بھی راء کے ہی ایجینٹ ہوں یا پھر راء نے انکو بھاری رقم کے عوض خرید لیا ہو۔ ایسی صورت میں میجر دانش خود خطرے میں پھنس سکتا تھا۔ جو راستہ جہاز کے ڈیک کی طرف جاتا تھا وہاں پر 10 کے قریب مسلح افراد موجود تھے اور ایسی صورت میں ان سے پنگا لینے کا مطلب تھا آبیل مجھے مار۔ اگر عام حالات میں 10 مسلح افراد سے لڑنا ہوتا تو میجر دانش ایک لمحے کو بھی نا سوچتا، مگر یہاں مسئلہ انسے لڑنے کا نہیں بلکہ کرنل وشال کو پکڑنے کا تھا۔ جو یقنیا پاکستان سے کوئی قیمتی راز چرا کر دشمن ملک جا رہا تھا۔ آخر کار میجر دانش نے دوسرا راستہ اختیار کیا، جہاز کے ڈیک کی جانب جانے کی بجائے میجر دانش نے خاموشی سے ایک سائیڈ پر پڑی لائف ٹیوب اٹھائی اور سمندر کے پانی میں اتر گیا۔ گو کہ میجر دانش بہت اچھا تیراک بھی تھا مگر وہ بغیر آواز پیدا کیے جہاز تک پہنچنا چاہتا تھا جسکے لیے لائف ٹیوب کا استعمال ہی بہترین طریقہ کار تھا۔ ٹیوب کی مدد سے میجر دانش سمندری پانی میں موجود بنائے گئے عارضی راستے کے نیچے ہو لیا۔
یہاں پانی کی گہرائی تو زیادہ نہیں ہوتی مگر ایک عام تیراک کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس پانی میں اتر سکے۔ لکڑی کےپھٹوں کی مدد سے بنائے گئے راستے استعمال کیے جاتے ہیں اور میجر دانش انہی پھٹوں کے نیچے نیچے جہاز کی طرف جا رہا تھا۔ جہاز کے انتہائی قریب پہنچ کر میجر دانش بہت چوکنا ہوگیا کیونکہ اسکے عین اوپر مسلح افراد موجود تھے جو آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے۔ میجر دانش نے انکی باتیں سننے کی کوشش کی مگر صحیح طور پر سمجھ نہیں پایا۔ یہاں پر میجر دانش کی چھوٹی سی غلطی بھی پانی میں آواز پیدا کر کے اوپر کھڑے مسلح افراد کو چوکنا کر سکتی تھی اس لیے میجر دانش بہت ہی احتیات کے ساتھ جہاز کے بالکل قریب پہنچا۔ جہاز اب چلنے کے لیے بالکل تیار کھڑا تھا۔ اور اس پر سوار ہونا ناممکن تھا جبکہ میجر دانش واپس بھی نہیں جا سکتا تھا۔
میجر دانش نے فورا ہی اپنے اطراف کا جائزہ لیا تو اسے خوش قسمتی سے ایک چھوٹا پائپ پانی پر تیرتا ہوا مل گیا۔ سمندری حدود میں عموما بہت سا فضلہ اور گندا سامان موجود ہوتا ہے، پاکستان میں صفائی کا ناقص انتظام ہونے کی وجہ سے پانی نا صرف بہت زیادہ گدلا ہوتا ہے بلکہ اس میں بہت سا کٹھ کباڑ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہی چیز آج میجر دانش کے کام آئی اور اسے ایک پائپ مل گیا۔ میجر دانش جہاز کے بالکل قریب تھا، جیسے ہی جہاز چلنے لگا اور اسکے حفاظتی بند توڑے گئے تو پانی میں بہت زیادہ شور پیدا ہوا جو کہ معمول کی بات تھی، اسی شور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میجر دانش نے ایک ڈبکی لگائی اور پانی کے نیچے جا کر جہاز کے ساتھ ایک سپورٹ کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ میجر دانش نے اپنا سانس روک رکھا تھا ۔ سپیشل ٹریننگ کی وجہ سے میجر دانش کم سے کم 3 منٹ تک با آسانی پانی میں اپنا سانس روک سکتا تھا۔ اور ان 3 منٹوں میں جہاز ان مسلح افراد سے کافی دور پہنچ چکا تھا۔ جب میجر دانش کو مزید سانس روکنے میں دشواری کا سامنا ہونے لگا تو اس نے پائپ کا سہارا لیا۔ پائپ پانی کی سطح سے کچھ اوپر باہر نکال لیا اور نیچے سے اپنے منہ کو لگا لیا۔ جس سے میجر دانش کو اب سانس لینے میں آسانی ہو رہی تھی۔ مگر پانی میں جود کیمیکلز اور دوسرے گندے فضلے میجر دانش کے جسم پر بہت برا اثر ڈال رہے تھے۔ ایسے علاقوں میں اکثر جہازوں کا تیل بھی سمندری پانی میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جو مچھلیوں کی زندگی کے لیے زہر کا کام کرتا ہے۔ میجر دانش کے لیے اس پانی میں اپنی آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ وہ محض پائپ کی مدد سے سانس لینے پر ہی گزارا کر رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ جہاز بندرگاہ سے دور نکل جائے تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں آئے بغیر جہاز پر چھڑ سکے۔
مزید 10 منٹ گزرنے کے بعد میجر دانش کو احساس ہوا کہ شاید اب پانی کچھ صاف ہے کیونکہ اب اس میں چکناہٹ اور بدبو نہیں رہی تھی۔ میجر دانش نے آنکھیں کھولیں تو واقعی پانی قدرے صاف تھا جسکا مطلب تھا کہ اب جہاز بندرگاہ سے دور نکل آیا ہے۔ میجر دانش نے سپورٹ کی طرف دیکھ جس کو پکڑ کر وہ جہاز کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا ، وہاں ایسی بہت سی سپورٹ تھیں۔ یہ اصل میں لوہے کے راڈ سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں جنکی مدد سے کوئی بھی جہاز کی اوپر والی سطح تک پہنچ سکتا تھا۔ضرورت پڑنے پر سمندر کے درمیان انہی سیڑھیوں کا استعمال کرکے سمندری پانی میں اترا جاتا ہے اور جہاز کی بیرونی مرمت کی ضرورت ہو تو وہ کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہی سیڑھیوں کی مدد سے میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکالا اور فورا ہی پیچھے بندرگاہ کی طرف دیکھا جو اب خاصی دور رہ چکی تھی اور بالکل دھندلی نظر آرہی تھی۔ اب کم سے کم وہاں سے کوئی بھی میجر دانش کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میجر دانش سیڑھیوں کا استعمال کرتے ہوئے جہاز کے اوپر چڑھ چکا تھا۔ حیرت انگیز طور پر یہاں سیکیورٹی کے لیے کوئی موجود نہیں تھا بالکہ ہر طرف خاموشی تھی۔
میجر دانش جھک کر چلتا ہوا اور اپنے آپ کو مختلف چیزوں کی اوٹ میں چھپاتا ہوا ایک کیبن تک پہنچ چکا تھا۔ یہاں سے جہاز کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اندر پائلٹ بھی موجود تھا اور میجر دانش کو فورا ہی اندازہ ہوگیا کہ جہاز کا رخ مسقط اومان اور دوسرے عرب ممالک کی طرف تھا۔ یہ چیز میجر دانش کے لیے حیران کن تھی کیونکہ میجر دانش کے خیال کے مطابق کرنل وشال کو انڈیا جانا چہیا تھا مگر اس جہاز کا رخ دوسری طرف تھا۔ ابھی میجر دانش یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی رہا تھا کہ اسے دور سے ایک چھوٹا جہاز اسی طرف آتا نظر آیا۔ اور جس جہاز پر میجر دانش سوار تھا اسکی رفتار بھی سلو ہونے لگی۔ میجر دانش کی چھٹی حس نے کام کیا اور وہ فورا ہی دوبارہ انہی سیڑھیوں سے اتر کر پانی کے نیچے چلا گیا۔ وہ پائپ میجر نے اپنی شلوار کے نیفے میں پھنسا لیا تھا پانی کے نیچے جا کر میجر نے دوبارہ پائپ نکالا اور اسی کی مدد سے سانس لینے لگا۔ کچھ ہی دیر میں چھوٹا جہاز بڑے جہاز کی دوسری سائیڈ پر آکر رک گیا۔ میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکالا تو اسے اطراف میں کچھ نظر نہ آیا، وہ پانی میں ہی جہاز کا سہارا لیکر دوسری طرف گیا تو اس نے دیکھا کہ کرنل وشال ایک سیڑھی کے ذریعے بڑے جہاز سے چھوٹے جہاز میں سوار ہو رہا تھا۔ میجر دانش ایک دفعہ پھر پانی کے نیچے گیا اور تیرتا ہوا چھوٹے جہاز کی دوسری سائیڈ پر پہنچ گیا اور وہاں بھی موجود پانی کے نیچے جہاز کے ساتھ لگی سیڑھیوں کا سہارا لیا۔ کچھ دیر کے بعد جہاز نے چلنا شروع کیا۔ اب کی بار اس جہاز کی رفتار پہلے جہاز سے بہت زیادہ تھی اور میجر دانش کو پانی کے نیچے رہنا مشکل ہوگیا تھا۔
وہ سیڑھیوں سے ہوتا ہوا اوپر جہاز پر چڑھ آیا اور ایک لوہے سے بنے ڈبے کی اوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اس جہاز کا رخ پہلے جہاز کے الٹی طرف تھا۔ یعنی کہ یہ جہاز دشمن ملک ہندوستان کا تھا اور کرنل وشال پاکستان کی سیکورٹی ایجینسیز کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ہندوستان کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش کے پاس یہ آخری موقع تھا کرنل وشال کو روکنے کے لیے۔ اس نے فورا ہی فیصلہ کیا کہ اسے اس جہاز پر قبضہ کرنا ہوگا اسے واپس پاکستان لیجانا ہوگا۔ گو کہ یہ ایک ناممکن کام تھا مگر میجر دانش کو اس وقت کچھ اور سجھائی نا دیا اور وہ فورا ہی چھپتا چھپاتا جہاز کے کنٹرول روم میں پہنچ گیا۔ شیشے کی کھڑکی سے اس نے اندر دیکھا تو جہاز کا پائلٹ سکھ تھا۔ ہلکی داڑھی اور سر پر سکھوں کے سٹائل کی پگڑی موجود تھی۔ یہ نشانی میجر دانش کے شک کو یقین مین بدلنے کے لیے کافی تھی۔ میجر دانش جسکے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ایک ہی آن میں دروازے تک پہنچا اور بغیر آہٹ پیدا کیا پائلٹ کے سر پر پہنچ گیا۔
اس سے پہلے کے ڈرائیور کو کچھ سمجھ آتی میجر دانش کا وار اسکی گردن کے پچھلے حصے پر پڑا اور پائلٹ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا اور پھر اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ میجر دانش کے ایک ہی وار نے پائلٹ کو بیہوش کر دیا تھا۔ جہاز میں موجود نقشے کی مدد نے میجر دانش نے اندازاہ لگایا کہ واپس پاکستان کی بندر گاہ پر پہننے کے لیے اسے جہاز کو بائے طرف گھمانا ہوگا اور میجر دانش نے ایسا ہی کیا۔ جہاز کی سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے جہاز نے تھوڑے ہچکولے لیے مگر میجر دانش نے فورا ہی اسکو قابو میں کر لیا اور جہاز کی سپیڈ بھی کم کر دی۔ جب جہاز صحیح ڈائریکشن میں جانے لگا تو میجر دانشے نے سپیڈ پھر سے بڑھا دیی۔
جہاز کے نیچے موجود وی آئی پی کمرے میں کرنل وشال نے فوری طور پر محسوس کیا کہ جہاز کو جو ہچکولے آئے ہیں یہ کسی انجان اور اناڑی پائلٹ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ کرنل وشال نے فوری طور پر اپنے ساتھ ایک کیپٹن کو لیا اور کنٹرول روم کی طرف بڑھنے لگا۔ کرنل وشال کی عمر 45 کے قریب تھی اور قد 6 فٹ 2 انچ تھا۔ دیو ہیکل جسامت کا حامل کرنل وشال 45 سال کا ہونے کے باوجود جسمانی طور پر فٹ اور بہت سے جوان افسروں پر بھاری تھا۔ اوپر سے اسکا دماغ بھی کسی کمپیوٹر کی طرح تیز چلتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاز کو ہلکے سے ہچکولوں نے اسے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔
دوسری طرف میجر دانش اپنی دھن میں مگن جہاز کی رفتار میں مسلسل اضافہ کیے جا رہا تھا ۔ وہ جلد از جلد جہاز کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہنچانا چاہتا تھا جہاں سے پاکستانی نیوی فوری اس جہاز کو گرفتار کر لیتی اور کرنل وشال بھی پکڑا جاتا۔ مگر اس سے پہلے کہ جہاز پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوتا میجر دانش کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میجر دانش کی چھٹی حس نے اسے خطرے سے آگاہ کیا اور وہ بغیر پیچھے دیکھے ایک قلابازی لگا کر اپنے دائیں طرف گھوم گیا۔ ایک سیکنڈ کی دیر میجر دانش کو اگلے جہاں پہنچا سکتی تھی۔ کرنل وشال کے ساتھ آنے والے کیپٹن نے ایک بھاری بھر کم لوہے کا راڈ میجر دانش کے سر پر مارنے کی کوشش کی تھی مگر میجر دانش اپنی پیشہ وارانہ تربیت کی وجہ سے اس وار سے بچ گیا۔ اس سے پہلے کہ کیپٹن اگلا وار کرتا میجر دانش ایک ہی جست میں اسکے سر پر پہنچ چکا تھا اور اپنے آہنی ہاتھوں سے کیپٹن کی گردن کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ چکا تھا۔
کیپٹن میجر دانش کے وار سے زمین پر گر چکا تھا اور اسکی آخری سانسیں نکل چکی تھیں۔ میجر دانش نے بغیر وقت ضائع کیے اپنا اگلا وار کرنل وشال پر کیا مگر وہ حیرت انگیز طور پر پھرتیلا نکلا ۔ وہ نا صرف میجر دانش کے وار سے بچ نکلا بلکہ میجر دانش کے وار سے بچ کر اس نے اپنی لمبی ٹانگ ہوا میں گھمائی جو میجر دانش کی کمر پر لگی اور میجر دانش ہوا میں اچھلتا ہوا کنٹرول روم کی دیوار پر جا کر لگا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میجر دانش نے دیوار کا سہارا لیتے ہوے واپس چھلانگ لگائی اور کرنل وشال کی گردن پر وار کیا، مگر اس بار بھی کرنل وشال کی پھرتی نے اسے بچا لیا، اس سے پہلے کہ میجر دانش کے ہاتھ کرنل وشال کی گردن پر پڑے کرنل وشال نے کمال مہارت سے میجر دانش کے بازو پر اپنا وار کیا اور میجر دانش کو اپنے بازو کی ہڈی دو حصوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش اگلا وار کرتا، کرنل وشال نے میجر دانش کا وار اسی پر آزمایا اور گردن پر حملہ کیا۔ کرنل وشال نے کراٹے کے مخصوص انداز میں اپنے ہاتھ کی ہڈی کو میجر دانش کی گردن کی ہڈی پر اسطرح مارا کہ میجر کو اپنا آپ ہوا میں اڑتا محسوس ہوا اور جسم ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
میجر دانش نے گھوم کر دوبارہ کرنل وشال پر حملہ کرنے کی کوشش کی جو اب کی بار بالکل پرسکون کھڑا تھا۔ اس سے پہلے کے میجر دانش کے ہاتھ کرنل کی گردن تک پہنچتے میجر کا دماغ اسکا ساتھ چھوڑ چکا تھا اور وہ اپنے وزن پر ہی نیچے گرتا چلا گیا۔ نیچے گرنے سے پہلے ہی میجر دانش کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور جیسے ہی وہ نیچے گرا، کرن وشال دروازہ کھول کر باہر جا رہا تھا۔
میجر دانش کے حواس بحال ہوئے تو اسنے اپنے آپ کو زمین پر پڑا محسوس کیا۔ کچھ دیر میجر دانش آنکھیں کھولے بغیر زمین پر پڑا رہا اور اپنی اطراف کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگا۔ جو آخری بات اسکو یاد آئی وہ کرنل وشال کا پرسکون چہرہ تھا۔ میجر دانش کے ہاتھ اسکی گردن کی طرف بڑھ رہے تھے مگر نجانے کیوں اسکی گردن تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
اب میجر دانش محسوس کرنے لگا کہ اسکے آس پاس کوئی کھڑا ہے یا نہیں؟؟؟ مگر اسکو ایسا کچھ بھی محسوس نہ ہوا، نہ کسی کے قدموں کی آہٹ تھی اور نہ ہی کسی کی باتیں نہ ہی کسی کے سانس لینے کا احساس۔ اچانک ہی میجر دانش کو احساس ہوا کہ اسے جہاز کے چلنے کی آواز بھی نہیں آرہی اور نہی پانی پر جہاز کے ہچکولے محسوس ہو رہے ہیں بلکہ جس جگہ پر وہ لیٹا ہوا تھ
جاری ہے
0 Comments