Ads

کرشمہ آنٹی کی حسرتیں۔۔۔۔۔ قسط 4

 کرشمہ آنٹی کی حسرتیں

Part 4

 وہ آااااااااااااااہ آاااااااااااااااہ کی آوازیں

نکال رہی تھیں۔ میں نے تھوڑا سا لن باہر نکاال۔ پھر اندر ڈال

دیا حتی کہ باقی کا پانی بھی انکی چوت کے اندر ہی چھوڑ

دیا۔ کرشمہ آنٹی اب ساکت ہو گئی تھی۔ میرا سارا پانی

چوت میں نچوڑ کر وہ میرے ہی اوپر آ لیٹی۔ اب میرے وجود

کے پٹھے ڈھیلے ہونے لگے تھے۔ کرشمہ آنٹی کی گرمی نکل

گئی تھی۔ میں ان کی بے قرار سانسیں اپنے گلے پر محسوس

کر رہا تھا۔ انکے دودو میرے سینے پر نرم محسوس ہونے لگے

تھے۔ میں نے اپنا لن ان کی چوت سے باہر نکاال اور انکے

چوتڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اپنی چوت کی گرمی بجا کر

کرشمہ آنٹی نے بیٹھ کر پہلے میری گردن پر، پھر ہونٹوں پر،

اس کے بعد نیچے پیڑو میں اور آخر میں میرے لن کو کس

کیا۔میری سانسیں معمول پہ آ گئیں تو میں نے اٹھ کر شاور

کا رخ کیا جو محض کرشمہ آنٹی کی چوت کی گرمی نکالنے

کا بہانہ تھا۔ وہیں غسل کرنے کے بعد باہر نکال تو کرشمہ آنٹی

نے میرا چہرہ ہاتھوں میں پکڑا، ماتھے پہ بوسہ لیا اور دودھ

کا گالس پیش کیا جسے میں غٹا غٹ پی گیا۔ کرشمہ آنٹی نے

مجھے گلے لگا کر، مسکرا کر گالیوں کے لئے معزرت کی تو

میں نے ان کے ہاتھ کا بوسہ لیااور گھر کے لئے نکل پڑا۔ گرمی

کی وجہ سے سب اپنے اپنے رومز میں تھے، غنیمت جان کر

میں بھی کمرے میں گھس گیا۔اس دن سونے کا مزامیں آج

تک نہیں بھوال۔

جمعے کا بقیہ دن میں نے سو کے گزارا۔ کرشمہ آنٹی کی چوت

کو اتنی گہرائی میں چودنے اور اپنا پہال بھرپور سیکس کرنے

کے بعد تھکن کے مارے آنکھ ہی نہیں کھل پا رہی تھی۔ شام

کو امی نے کھانا کمرے کے اندر آکر ہی دیا۔ " رفعت بیٹا!

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کب سے سو رہے ہو؟" "نہیں

امی! وہ کرشمہ آنٹی کے گھر کی بجلی میں کوئی مسئلہ تھا،

سیڑھیوں پر چڑھ اتر کر بہت تھک گیا تھا، اس لئے آرام کرنے

کا سوچا۔ آپ سب نے کھانا کھا لیا؟" "ہم نے تو ٹائم پر ہی

کھا لیا۔ تم نہیں آئے، حاالنکہ میں نے آواز بھی دی تھی۔

تمہارے ابا نے پوچھا لیکن میں نے بتایا شاید تم سو رہے ہو۔

میں سونے جا رہی ہوں۔ تم کھانا جلدی کھا لینا۔" امی بالوں

میں ہاتھ پھیر کر چلی گئی۔ میں نے منہ ہاتھ دھو کر کھانا

کھایا۔ باقی کی ساری رات کرشمہ آنٹی کے بڑے مموں اور

نرم چوت کی سوچوں میں گزری۔ صبح ابا نے گودام میں

بالیا۔ گودام میں مختلف چیزوں کی فہرستیں دیکھنے کا کام

ابا نے مجھے سونپا۔ شام تک ریکارڈ کی ایک فائل تیار کر کے

میں نے ابا کو پیش کی۔ ہفتے کا دن کافی مصروف رہا۔ شام

کو واپسی پہ سلمان سے مالقات ہوئی۔ کرشمہ آنٹی کے گھر

اور کوئی نہیں تھا۔ سلمان نے اتوار کے دن لڈو کھیلنے کی

پیشکش کی، میں نے بھی حامی بھر لی۔ سلمان ویک اینڈ پہ

آیا تھا۔ ناشتے کے بعد میں نے امی سے سلمان کے ساتھ لڈو

کھیلنے کی اجازت لی اور کرشمہ آنٹی کے ہاں آ دھمکا۔ سلمان

فریش ہو کے باہر الن میں ناشتے کا انتظار کر رہا تھا۔ کرشمہ

آنٹی کچن میں تھی۔ سلمان تپاک سے مجھے گلے مال۔ ہم

بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ سلمان نے مجھے بورڈنگ کے قصے

سنائے۔ وہ ان کے ٹف روٹین سے تھوڑا ناالں تھا۔ کرشمہ آنٹی

نے ناشتہ النے میں تھوڑی دیر کی تو وہ اٹھ کر ان کے پیچھے

کچن میں چال گیا۔ وہ کچن کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔ اس

کی آڑ میں مجھے کرشمہ آنٹی کی موٹی گانڈ دکھائی دے

رہی تھی لیکن اندر کا منظر دیکھ کر میری حیرت کی انتہا

نہ رہی۔ سلمان کرشمہ آنٹی سے باتیں کر رہاتھااور تھوڑی دیر

بعد اس نے اپنا ہاتھ کرشمہ آنٹی کی شلوار کے اندر ڈال دیا

اور اب اپنے ہاتھ سے بہت مزے سے ان کے چوتڑوں کو سہال

رہا تھا۔ کرشمہ آنٹی اس کے لئے انڈا تل رہی تھی۔

 

جاری ہے 


Post a Comment

0 Comments