Ads

وطن کا سپاہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط 5

 وطن کا سپاہی

قسط نمبر 1 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں  

 قسط 5

قسط نمبر 4 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں  


گردن پر اپنے ہونٹوں اور دانتوں سے پیار کرنے لگی۔ دانش کو 20 سالہ جوان عفت کی یہ بےباکی بہت اچھی لگ رہی تھی۔ پھر عفت نے خود ہی دانش کی بنیان اوپر کی اور اسکو اتار دیا۔ دانش کا سینہ بالوں سے بالکل پاک تھا۔ آجکل کے نوجوان فیشن کے طور پر اپنا سینہ بھی شیو کرتے ہیں ایسا ہی دانش نے کر رکھا تھا۔ ہلکا گندمی رنگ اور کسا ہوا جسم، عفت کا آئیڈیل گویا اسکے سامنے تھے۔ عفت کو ہمیشہ سے ہی کشادہ سینے والے اور ورزشی جسم والے مرد پسند تھے۔ فلموں میں بھی وہ جب انڈیا کے ہیرو کو دیکھتی جسکا سینہ بالوں سے پاک ہوتا تو اسکا بہت دل کرتا کہ اسکے ہونے والے شوہر کا سینہ بھی ایسا ہی ہو۔ اور دانش کا کا سینہ اور جسم کی بناوٹ بالکل عفت کی پسند کے مطابق تھی۔ عفت آگے جھکی اور دانش کے سینے پر موجود نپلز پر زبان پھیرنے لگی۔ عورت کے نپلز کی طرح مرد کے نپلز بھی بعض اوقات سیکس کے دوران سخت ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح دانش کے نپل اس وقت سخت تھے جن پر عفت اپنی زبان تیز تیز چلا رہی تھی۔ کبھی عفت دانش کے نپل منہ میں لیکر انکو چوس لیتی تو کبھی محض زبان پھیرنے پر ہی گزارا کرتی ۔


عفت نے دانش کو لیٹنے کو کہا تو دانش بیڈ پر لیٹ گیا۔ وہ عفت کو پورا موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ بھی اپنی مرضی سے دانش کے ساتھ اپنی سہاگ رات کو انجوائے کرے۔ دانش کے لیٹنے کے بعد عفت نے سر تا پاوں دانش کے جسم کا جائزہ لیا۔ کچھ دیر اس نے اپنی نظریں دانش کے انڈر وئیر پر روک لیں جہاں اسے بہت بڑا ابھار نظر آرہا تھا۔ عفت جانتی تھی کہ یہ لن کا ابھار ہے جو اسکی چوت میں جانے کو بے تاب ہو رہا ہے۔ عفت نے تعریفی نظروں سے دانش کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور پھر اپنی ٹانگیں پھیلا کر دانش کے اوپر بیٹھ گئی۔ دانشے کی ٹانگوں پر بیٹھنے کے بعد عفت دانش کے اوپر جھکی اور اسکے سینے پر پیار کرنے لگی۔ سینے سے ہوتی ہوئی عفت نیچے تک آئی اور انڈر وئیر کے اوپر تک اپنی زبان پھیری۔


انڈر وئیر تک پہنچنے کے بعد عفت نے بلا جھجک اپنا ہاتھ دانش کے لن پر رکھ دیا جو ابھی تک انڈر وئیر کی قید میں تھا۔ عفت کی یہ بے باکی دانش کو بہت پسند آرہی تھی۔ وہ بھی ایسی ہی بیوی چاہتا تھا جو نہ صرف گرم ہو بلکہ اپنی گرمی کا اظہار کرنا بھی جانتی ہو۔ اور بستر میں اپنے شوہر کے ساتھ سیکس انجوئے کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہو۔ دانش نے ہلکی آوازمیں عفت سے پوچھا کہ میرا ہتھیار کیسا لگا تمہیں؟؟؟ تو عفت نے ایک شرارتی مسکراہٹ سے کہا یہ تو جب آپ اپنا کام کرو گے تبھی پتا لگے گا اسکے بارے میں۔ یہ سن کر دانش کو عفت پر ایک دم سے پیار آیا اور اسنے عفت کو اپنے اوپر گرا لیا۔ اور دیوانہ پیار اسکو پیار کرنے لگا۔ دانش اب اپنے ہاتھ عفت کے چوتڑوں پر بھی پھیر رہا تھا۔ 32 سائز کے نرم اور گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑ دانش کو بہت پسند آئے تھے۔ مگر ابھی تک ان پر سرخ رنگ کی پینٹی موجود تھی۔


اسی دوران عفت جو دانش کے اوپر جھکی ہوئی تھی اسکو اپنی چوت پر سخت چیز لگتی محسوس ہوئی۔ عفت نے اسکا مزہ لینے کے لی اپنا وزن دانش کے اوپر ڈالا تو عفت کی چوت اس سخت لن کے اور قریب ہوگئی۔ اور چوت لن کی رگڑ سے عفت اور دانش دونوں کو ہی مزہ آنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد دانش نے اسی پوزیشن میں عفت کے برا کی ہُک کو کھول دیا اور اور اسکو سیدھا بٹھا کر اسکے مموں کو برا کی قید سے آزاد کر دیا۔ عفت پینٹی پہنے دانشے کے لن کو اوپر بیٹھی تھی، انڈر وئیر میں ہونے کے باوجود دانش کا لن عفت کی چوت کو مزہ دے رہا تھا۔ اور عفت کے 34 سائز کے ممے پہلی بار کسی مرد کے سامنے ننگے ہوئے تھے۔ اور دانش وہ خوش قسمت تھا جس نے ان خوبصورت سڈول اور کسے ہوئے مموں کا پہلی مرتبہ نظارہ کیا تھا۔ دانش نے اپنے ہاتھ عفت کی کمر سے آگے کو لاتے ہوئے اسکے مموں پر رکھ دیے اور عفت کے منہ سے ایک سسکاری نکلی۔ اور مزے کی شدت سے اسکی آنکھیں بند ہوگئی۔


دانش نے عفت کو اپنے اوپر سے اتارا اور اسکو بیڈ پر لٹا کر خود اسکے اوپر جھک کر اسکے گورے گورے دودھ جیسے مموں کو دیکھنے لگا۔ عفت کا پورا جسم ہر قسم کے داغ سے پاک تھا اور اسی طرح اسکے مموں پر بھی کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ گورے گورے مموں پر ہلکے براون رنگ کے 2 دائرے اور ان پر ایک چھوٹا سے ہلکا براون نپل بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔ دانش نے پہلے اپنے ہاتھوں سے ان نپلز کو چھوا اور پھر انکو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگا۔ دانش کے اس عمل نے عفت کو پاگل کر دیا تھا اور اس نے اپنی ایک ٹانگ دانش کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا دی تھی عفت کی اس حرکت کا نتیجہ یہ ہوا کے دانش کی بھی ایک ٹانگ عفت کی ٹانگوں کے درمیان چلی گئی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اسکا لن بھی عفت کی چوت کے ساتھ گلے ملنے لگا۔ عفت نے اپنی چوت کو آہستہ آہستہ دانش کے لن پر رگڑنا شروع کر دیا تھا اور دانش مسلسل عفت کے ممے چوسنے میں مصروف تھا۔


دانش نے پہلے بھی کچھ لڑکیوں کے خوبصورت مموں کو چوسا تھا مگر ایسے صاف گورے اور خوبصورت ممے اسے کبھی نصیب نہیں ہوئے تھے۔ اسی لیے وہ دل بھر کر ان مموں کا دودھ پینا چاہتا تھا۔ اور عفت بھی دانش کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اکیلا مرد ہی عورت کو پیار کرتا رہے اور جواب میں عورت رسپانش نہ دے تو نہ مرد کو سیکس کا اصل مزہ آتا ہے اور نہ ہی عورت کو۔ مگر عفت ان عورتوں میں سے نہیں تھی۔ اپنی فطری شرم و حیا اور پاکدامنی کے باوجود وہ سیکس کے طریقوں سے نہ صرف واقف تھی بلکہ یہ بھی جانتی تھی کہ سیکس کا اصل مزہ لینے کے لیے شوہر کا پورا پورا ساتھ دینا لازمی ہے۔


جب دانش کا عف کے مموں سے دل بھرنے لگا تو وہ آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آنے لگا، اور اب کی بار دانش نے ایک ہی جھٹکے میں عفت کی پینٹی اتار دی تھی۔ عفت کی پینٹی جیسے ہی اتری عفت نے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر اپنی پھدی کو چھپانا چاہا مگر دانش نے درمیان میں اپنا ہاتھ رکھ کر عفت کی نرم تھائی کو پکڑا اور اسکی ٹانگوں کو تھوڑا سا کھول دیا۔ ٹانگیں کھولنے کے بعد دانش بہت ہی اشتیاق کے ساتھ عفت کی چھوٹی سی پھدی کو دیکھنے لگا۔ چھوٹی سی اس لیے کہ یہ بالکل ان ٹچ پھدی تھی۔ جس پر کبھی کسی مرد نے تو کیا خود عفت نے بھی چھیڑ خانی نہیں کی تھی۔ اس نے اپنی پھدی کو اپنے شوہر کی امانت سمجھتے ہوئے بہت ہی سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ عفت کی پھدی کے دونوں لب آپس میں ملے ہوئے تھے۔ ان میں زرا برابر بھی فاصلہ نہیں تھا۔ پھدی کے لبوں کا رنگ ہلکا ہلکا سرخ اور گلابی تھا اور بالوں کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ لبوں کے درمیان ہلکی ہلکی چکناہٹ موجود تھی جو دانش کے جسم کی گرمی پانے کے بعد نمودار ہوئی تھی۔ دانش نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ عفت کی پھدی کے لبوں پر پھیرنا شروع کیا تو عفت کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں، اسکے منہ سے آہ، آہ، اف آوچ،، آوئی آہ آہ جیسی سسکیاں نکل رہی تھی اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دانش کا وہ ہاتھ پکڑ لیا تھا جس کو وہ عفت کی پھدی کے لبوں پر مسل رہا تحھا۔ مگر اسکے باوجود دانش نے اپنا ہاتھ اسکی پھدی پر مسلنا جاری رکھا جسکی وجہ سے عفت کی پھدی کے لبوں میں موجود چکناہٹ میں اضافہ ہونے لگا۔


کچھ ہی دیر بعد دانش عفت کے اوپر جھک کر اسکی پھدی کی سائیڈوں پر اپی زبان پھیر رہا تھا جس سے عفت کا پورا جسم کانپنے لگا تھا اب۔ عفت کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں، اسکا پیٹ تیز تیز سانسوں کی وجہ سے اوپر نیچے ہورہا تھا جبکہ اسکے ممے بھی مسلسل اوپر نیچے ہورہے تھے۔


دانش نے اپنی زبان کو آہستہ آہستہ عفت کی پھدی کے لبوں کے اوپر کیا تو عفت نے سختی سے دانش کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکو ایسا کرنے سے منع کیا۔ دانش نے سوالیہ نظروں سے عفت کی طرف دیکھا تو اسنے کانپتی ہوئی آواز میں کہا یہ جگہ گندی ہے۔ مگر دانش تو پھدی چاٹنے کا شوقین تھا۔ وہ تو بہت گندی اور بالوں سے بھری ہوئی پھدی بھی بہت شوق سے چاٹتا تھا تو ایسی صاف ستھری اور ان چھوئی پھدی کو وہ کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ دانش نے مسکراتے ہوئے عفت کی طرف دیکھا اور اپنے ہونٹ عفت کی پھدی کے اوپر رکھ کر ایک پیار بھرا لمبا بوسا دیا۔ اس بوسے نے تو جیسے عفت کی جان ہی نکال دی تھی۔


اس سے پہلے کہ عفت دانش کو دوبارہ روکتی ایسا کرنے سے دانش کی زبان عفت کی پھدی کے لبوں پر اپنا جادو چلانا شروع ہوگئی تھی۔ دانش کی گیلی زبان کو اپنی پھدی کے لبوں پر محسوس کر کے عفت کے جسم میں ایک کرنٹ دوڑ گیا۔ اور اسکی سسکیوں سے اب کی بار پورا کمرہ گونجنے لگا۔ دانش کی زبان نے عفت کو اتنا مزہ دیا تھا کہ وہ دوبارہ دانش کو روک ہی نا پائی ایسا کرنے سے اور دانش مسلسل اپنی زبان سے عفت کی پھدی کو چوسے جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد دانش نے اپنی زبان سے عفت کی پھدی کے لبوں پر دباو بڑھایا اور اپنی زبان ہلکی سی پھدی کے لبوں کے درمیان داخل کر دی۔ دانش کی اس حرکت نے عفت کی رہی سہی برداشت کو بھی ختم کر دیا تھا اور اب اس نے اپنی ٹانگوں کو سختی سے دبا لیا تھا مگر ٹانگوں کے درمیان دانش کا سر موجود تھا جسکی وجہ سے وہ اپنی پھدی کو دانش کی زبان سے علیحدہ نہ کر پائی۔ اب عفت اپنا سر دائیں بائیں مارنے لگی تھی۔ اور اسکی چوت مسلسل پہلے سے زیادہ گیلی ہوتی جا رہی تھی۔


کچھ ہی دیر کے بعد عفت کو اپنی ٹانگوں میں چیونٹیاں رینگتی محسوس ہونے لگیں۔ اور اپنی پھدی پر اسے سوئیاں چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اس صورتحال سے گھبرا گئی اور کانپتی ہوئی آواز میں دانش سے بولی کہ یہ میرے جسم کو کیا ہورہا ہے؟ دانش نے عفت کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا، وہ جانتا تھا کہ عفت جیسی کنواری لڑکی اس لذت سے بالکل ہی نا آشنا ہے اور وہ نہیں جانتی کہ ابھی اسکی پھدی سے کیسا لاوا نکلنے والا ہے۔ دانش بلا رُکے عفت کی پھدی میں اپنی زبان کو چلا رہا تھا کہ اچانک ہی عفت کے جسم نے جھٹکے لگانا شروع کیے اور ساتھ ہی اسکی چوت سے ایک گرم پانی کا فوارہ چل نکلا۔ تھوڑا گاڑھا اور چکنا پانی دانش کے منہ پر آکر گرا تھا، کچھ قطرے اچھل کر ہوا میں گئے اور دانش کی کمر پر آکر گرے جبکہ کچھ پانی اسکے منہ کے اندر بھی گیا جسکو وہ بلا جھجک پی گیا تھا۔


عفت کا جسم کچھ دیر جھٹکے کھاتا رہا اور پھر اسکو سکون مل گیا۔ عفت کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے آثار تھے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ حیران بھی تھی کہ آخر اسکی چوت سے اتنا پانی نکلا کیسے۔ اس نے سن رکھا تھا کہ سیکس کے دوران عورت کی چوت پانی چھوڑتی ہے مگر اسکا خیال تھا کہ جیسے اسکی پینٹی گیلی ہورہی تھی بس اتنا ہی پانی ہوتا ہوگا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ گرم پانی کا ایک فوارہ چل نکلتا ہے پھدی سے۔

 

دانش نے اپنا منہ پاس کپڑے ٹشو سے صاف کیا اور اسکے بعد نیچے لیٹ گیا اور عفت کو اوپر آنے کو کہا۔ عفت ایک بار پھر پہلے کی طرح دانش کے اوپر آکر بیٹھ گئی تھی۔ اسکی چوت اب بھی دانش کے لن کے اوپر تھی مگر فرق یہ تھا کہ پہلے عفت نے پینٹی پہن رکھی تھی جبکہ اب اسکی چوت مکمل ننگی اور گرم تھی۔ دانش کے لن کا احساس ملتے ہی اس چوت نے ایک بار پھر سے چکنا ہونا شروع کر دیا تھا۔ اور عفت اب ایک بار پھر دانش کے اوپر جھک کر اسکے جسم پر پیار کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد دانش نے عفت سے فرمائش کی کہ اب وہ اسکا انڈر وئیر اتار دے۔ اور منہ دکھائی کے بعد اب چوت دکھائی بھی وصول کر لے۔ دانش کی یہ بات سن کر عفت بے اختیار کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ اور دانش کو کہنے لگی یہ چوت دکھائی کیا ہوتی ہے؟؟ تو دانش نے کہا جس طرح منہ دکھانے کا تحفہ ہوتا ہے اسی طرح تم نے اپنی چوت مجھے دکھائی اسکا بھی تحفہ لے لو۔ عفت نے نزاکت سے اٹھلاتے ہوئے کہا کہاں ملے گا چوت دکھائی کا تحفہ؟ دانش نے جواب دیا میرا انڈر وئیر اتارو اسی میں موجود ہے تمہارا چوت دکھائی کا تحفہ۔ اس پر عفت نے اپنا ہاتھ دانش کے انڈروئیر کے اوپر سے ہی اسکے لن پر رکھ دیا اور کہنے لگی یہ تو میرا حق ہے۔ جو مجھے ملنا ہی ہے لازمی۔ مگر پہلی بار چوت دکھائی کا تحفہ تو کچھ اور ہنا چاہیے؟


دانش نے بھی عفت کی اس بے باکی پر چوت دکھائی کے تحفے کی آفر کر دی کہ عفت جو مانگے گی اسکو ملے گا۔ مگر عفت نے بجائے کوئی اور تحفہ مانگے بغِر کچھ کہے دانش کا انڈر وئیر اسکے گھٹنوں تک نیچے اتار دیا ۔ انڈر وئیر اترنے کی دیر تھی دانش کا 8 انچ لمبا لن ایک دم سے باہر نکال آیا۔ 8 انچ کا لمبا اور صحت مندلن دیکھ کر عفت کی آنکھوں میں ہوس اور بھی بڑھ گئی۔ ہوس کے ساتھ ساتھ اسکی آنکھوں میں حیرت کے آثار بھی تھے۔ اسے اندازہ تھا کہ مرد کا لن سیکس کے دوران کافی لمبا اور سخت ہوجاتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنا لمبا بھی ہوسکتا ہے۔


عفت غور سے دانش کے لن کو دیکھنے لگی اور بلا جھجھک اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیار کرنے لگی۔ دانش نے عفت سے پوچھا کیسے لگا تمہیں میرا لن؟؟ تو عفت نے بھی بے باکی سے جواب دیا بہت مست ہے۔ خوب مزہ آنے والا ہے ابھی مجھے۔ یہ کہ کر عفت نے دوبارہ سے دانش کا لن اپنے دونوں ہاتھوں مں لے کر اسکو سہلانا شروع کر دیا۔ عفت اپنے ہاتھ کو دانش کے لن کی ٹوپی سے لیکر اسکے ٹٹوں تک نیچے کی طرف پھیرتی اور پھر دوبارہ سے اپنے ہاتھ اوپر ٹوپی تک لیکر جاتی۔ نرم ہاتھوں کی یہ گرمی دانش کو بہت مزہ دے رہی تھی ، اسی مزے کی وجہ سے لن کی ٹوپی پر مذی کے 2 قطرے نمودار ہوئے جنکو عفت نے اپنے ہاتھوں سے ہی دانش کے لن پر پھیر دیا۔ وقفے وقفے سے دانش کے لن پر کچھ قطرے نمودار ہوتے جنکو عفت اپنے ہاتھوں سے دانش کے لن پر پھیر دیتی۔ دانش کا لن اب کافی چکنا ہو چکا تھا۔

 

دانش نے عفت سے فرمائش کی کہ وہ اسکے لن کو منہ میں لیکر چوسے۔ جس کو عفت نے فورا ہی رد کر دیا اور بولی وہ ایسا گندہ کام نہیں کرے گی۔ دانش نے کہا اس میں گندہ کام والی کونسی بات ہے؟ میں نے بھی تو تمہاری چوت پر زبان پھیری ہے۔ عفت کہنے لگی میں نے آپکو منع تو کیا تھا کہ ایسا نہ کریں آپ۔ دانش بولا کہ لیکن تمہیں مزہ تو آیا نہ ایسا کرنے سے؟ عفت نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ جس پر دانش نے کہا اب تم نہیں چاہتی کہ تمہارے شور کو بھی مزہ آئے؟؟ اس پر عفت کچھ دیر دانش کو دیکھتی رہی پھر بولی میں صرف اس پر اپنی زبان پھیروں گی مگر منہ میں نہیں لونگی۔ اور زبان بھی لن کے نچلے حصے پر پھیروں گی ٹوپی پر ہرگز نہیں۔ دانش نے فورا ہی کہا جیسے تمہارا دل کرتا ہے ویسے ہی کرو۔ کوئی زبردستی نہیں تمارے ساتھ۔


اب عفت کی زبان دانش کے لن کی ٹوپی سے کچھ نیچے لگتی اور رگڑ کھاتی ہوئی اسکے ٹٹوں تک جاتی جو بالوں سے ویسے ہی صاف تھے جیسے عفت کی چوت بالوں سے پاک تھی۔ اس عمل کے دوران کبھی کبھی عفت دانش کے لن پر اپنے ہونٹوں سے بھِی پیار کرتی مگر اس نے ابھی تک لن اپنے منہ میں نہیں لیا تھا۔ البتہ دانش کے ٹٹوں کو وہ 2 سے 3 بار اپنے منہ میں لیکر چوس چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہاں سے مرد کی رطوبت نہیں نکلتی۔ رطوبت نکلنے والی جگہ لن کا اوپر والا حصہ ہے جہاں وہ پہلے ہی مذی کے بے شمار قطرے دیکھ چکی تھی۔ اس لیے ابھی تک اس نے وہاں پر اپنے ہونٹ یا اپنی زبان نہیں پھیری تھی۔


دانش نے بھی عفت کو مجبور نہیں کیا اور تھوڑی دیر بعد جب عفت کی چوت پہلے کی طرح چکنی ہوگئی تو دانش نے عفت کو بیڈ پر لیٹنے کو کہا اور خود اسکی ٹانگوں کے درمیان آخر بیٹھ گیا۔ اس عمل کے دوران عفت نے دانش کو الماری سے سفید چادر نکالنے کو کہا جو عفت کی ساس نے خاص طور پر عفت کو دی تھی اور اسکو سمجھا دیا تھا کہ دخول سے پہلے یہ چادر ضرور بچھا لے اس سے مرد کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

 

جارج ہے 

قسط نمبر 6 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں

 

Post a Comment

0 Comments