کرشمہ آنٹی کی حسرتیں
قسط ۔۔5
وہ اب اس
کے پیچھے کھڑے ہو کے اس کی گانڈ پر اوپر اوپر گھسے مار
رہا تھا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ سامنے بڑھا کر اس کی
چھاتیوں کو دبانے لگا۔ اب میں سمجھا تھا کہ سلمان کرشمہ
آنٹی کے ہاں اتنا خوش کیوں رہتا تھا۔ میرا منہ حیرت کے
مارے کھال تھا اور دماغ اسی پہ سوچ رہا تھا کہ اوپر سے
اتنی شریف اور سادہ دکھنے والی کرشمہ آنٹی دراصل کتنی
چالو عورت تھی۔ کرشمہ آنٹی نے ایک انڈا اور پراٹھا میرے
لئے بھی بنایا۔ میں نے ناشتہ کیا تو تھا لیکن مروتا سلمان کے
ساتھ ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔ میری سوچ ابھی بھی سلمان اور
کرشمہ آنٹی کے حوالے سے گردش میں تھی۔ خیر، ناشتے کے
بعد ہم لڈو کھیلنے لگے۔ کرشمہ آنٹی بھی ساتھ ہی بیٹھی
تھی۔ وہ ہمارے کھیل کے درمیان کبھی مجھے اور کبھی
سلمان کو سپورٹ کرتی تھی۔ گیارہ بجے میں نے گھر جانے
کی بات کی تو سلمان نے مجھے روکا۔ میں نے بتایا کہ مجھے
ابا کے لئے کھانا لے جانا تھا۔ سلمان نے کہا کہ کھانا کر میں
پھر اس کے ساتھ لڈو کھیلوں کیوں کہ شام کو اسے واپس
جانا تھا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بہت خوش ہوا۔
لیکن ساتھ کرشمہ آنٹی کچھ سوچ رہی تھی، مجھے ایسا
لگا۔ گھر آیا تو امی نے دسترخوان میں روٹیاں لپیٹ دی تھیں
اور اب ٹفن میں قیمہ کریلے کا سالن ڈال رہی تھی۔ یہ میری
مرغوب ڈش تھی۔ اسی لئے جلدی جلدی ابا کو کھانا دے کر
میں نے بھی خوب شکم سیر ہو کر کھایا۔ سلمان کے ساتھ
لڈو کھیلنے کا کہہ کر میں نے پھر کرشمہ خالہ کے گھر کی راہ
لی۔
میں
نے سلمان کو میسیج کیا کہ میں آرہا ہوں۔ وہاں پہنچا تو
دروازہ کھال ہوا تھا۔ میں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا۔
برآمدے میں کوئی نہیں تھا۔ کرشمہ آنٹی کے کمرے کے
دروازے پر جالی لٹک رہی تھی اور وہاں سے کھسر پھسر کی
آواز آ رہی تھی۔ میرا دل دھڑکنے لگا۔ میں نے چپکے سے اندر
جھانکا تو حیرت میں ہوشربا اضافہ ہو گیا۔ سلمان کرشمہ
آنٹی کے ساتھ کھری چارپائی پر صرف بنیان پہنے لیٹا تھا۔
کرشمہ آنٹی نے اس کی شلوار میں ہاتھ ڈاال تھا اور اس کے
لن کی مالش کر رہی تھی۔ جبکہ سلمان کرشمہ آنٹی کے بڑے
کالے نپلز کو انگلیوں میں دبا رہا تھا۔ کرشمہ آنٹی نے قمیض
اوپر کی تھی اور اس کے ناف کا گہرا ہول انکے دبلے پیٹ پر
بہت سیکسی دکھ رہا تھا۔ میرے منہ میں پہلے تو پانی آگیا
لیکن سلمان کو ایسے دیکھ کر مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا،
اس لئے میں نے واپسی کی راہ لی۔ شاید میرے قدموں کی
چاپ سن کر سلمان جلدی سے لڈو بغل میں دبائے میرے
پیچھے الن تک چال آیا۔ اپنے کھڑے لن کا سوچ کر اس نے لڈو
سے لن کو چھپایا اور میرا بازو پکڑ کر اندر لے ایا۔ کرشمہ
آنٹی نے اب قمیض نیچے کر رکھی تھی ۔ میری حیرت زدہ
چہرے کو دیکھنے باوجود وہ چارپائی پر نارمل ہی لیٹی
تھی۔ سلمان نے الن چئرز اندر روم میں رکھ لئے تھے۔ انہیں
ٹیبل سمیت کھینچ کر کرشمہ آنٹی کی چارپائی کے قریب
لگایا۔ ہم نے گھوٹیاں بانٹی۔ کرشمہ آنٹی نے اب سونے کا
بہانہ کرکے آنکھوں پر اپنا بازو رکھ لیا تھا۔ لیکن ان کی
قمیض پر انکے تنے ہوئے نپلز کا ابھار اب بھی مجھے اپنی
طرف راغب کر رہا تھا۔ ہم نے کھیل کا آغاز کیا۔ پہلی باری
سلمان نے لی۔ اس نے ڈائس پھینکا تو پانچ کا نمبر نکال۔ اب میری باری تھی۔ میں نے ڈائس پھینکنے کے لئے اٹھایا تو
سلمان نے مجھے انکھ ماری اور کرشمہ آنٹی کے نپل کو
انگلیوں میں مسلنے لگ گیا۔ میں نے شرم سے ڈائس کی طرف
توجہ مرکوز کی۔ پھینکا تو چھکا نکل آیا۔ پھر تین۔ میرے
گھوٹی چالنے تک وہ مسلسل آنٹی کے نپل کے ساتھ کھیلتا
رہا۔ اس نے اپنی باری پہ ڈائس پھینکا تو اب کے تین نکل آیا۔
پھر میری باری تھی۔ ڈائس پہلی دفعہ پھینکا تو اک اور
چھکا، پھر دوبارہ پھینکا تو اب کے پانچ نکل آیا۔ میں نے
دوسری گھوٹی نکالی اور پہلے چلی ہوئئی گھوٹی کو سٹاپ
پہ رکھا۔ دیکھا تو سلمان نے اکرشمہ آنٹی کی قمیض اوپر
کی تھی اور اس کے نپلز پر ہونٹ رکھ کر چوس رہا تھا۔
کرشمہ آنٹی کا سفید پیٹ، بڑے بڑے دودو اور ان کے کالے
نپلز، اور نیچے ناف کی گہرائی مجھ پر سحر طاری کرنے لگی
اور اب میرا لن تنننے لگا تھا۔ سلمان نے اب ڈائس نہیں اٹھایا
بلکہ میرا ہاتھ لے کر کرشمہ آنٹی کے شلوار کے اوپر ہی ان کے
چوت پر رکھ دیا۔ میں نے اسے شرما کر دیکھا تو اس نے
آنکھ مار کر میرا ہاتھ آنٹی کی چوت پر رگڑنے لگا۔ انکی
چوت ویسے ہی بہت گرم تھی، اب اس کے نرم اور مالئم
ہونٹ میری انگلی کے نیچے تھرکنے لگے۔ سلمان لڈو چھوڑ کر اٹھا اور اپنی شلوار نیچی کرکے اپنا تنا ہوا لن آنٹی کے
ہونٹوں پر رگڑنے لگا۔ ” "کیا کر رہے ہو سلمان؟ تم جانتے ہو
مجھے یہ سب نہیں پسند سلمان نے آنٹی کا ہاتھ لیا اور
چوما، "خالہ کریں نا! مجھے آپکا چوسنا بہت اچھا لگتا ہے!"
کرشمہآنٹی نے سلمان کا لن منہ میں لیا اور چاٹنے لگی، پھر
پورا لن منہ میں لے کر اللی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔ سلمان
نے آنٹی کے نپلز کو رگڑرگڑ کر اور جوش دالیا ۔ آنٹی کو
جوش میں کروٹیں لیتے دیکھ کر میں نے ان کی شلوار نیچے
کی۔ ان کی ٹانگیں اٹھائی اور اپنا بیلٹ ، زپ کھول کر اپنا
لن نکالا.
جاری ہے
0 Comments