وطن کا سپاہی
قسط نمبر 1 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں
قسط 7
قسط نمبر. 6 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں
میجر دانش انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک اسکے سر پر ٹھنڈے یخ پانی کی ایک بالٹی انڈیل دی گئی۔ سر پر ٹھنڈا پانی پڑتے ہی میجر دانش اپنی سوچوں کی دنیا سے واپس آیا تو اسنے دیکھا وہ اسی اندھیرے کمرے میں ہے جہاں کرنل وشال سے آمنا سامنا ہونے کے بعد اسکی آنکھ کھلی تھی۔ یوں تو میجر دانش کو سپیشل ٹرینینگ دی گئی تھی کہ کسی بھی قسم کے حالات میں اپنے ارد گرد کا خیال رکھنا ہے مگر عفت کی یادوں میں گم ہو کر میجر دانش کو پتا ہی نہیں لگا کب اسکے قید خانے کا دروازہ کھلا اور ایک مرد اور ایک عورت اندر داخل ہوئے۔ میجر دانش کو ہوش تب آیا جب اسکے سر پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی انڈیلی گئی۔
میجر دانش نے ہوش میں آتے ہی دوبارہ ہلنے جلنے کی کوشش کی مگر ایک بار پھر وہ بری طرح ناکام رہا۔ کمرے میں بہت ہلکی سی روشنی تھی جس میں وہ آنے والے مرد اور عورت کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ انکی بلکہ مدھم سی شکل نظر آرہی تھی۔ میجر دانش نے اندازہ لگایا کہ مرد کی عمر 30 کے لگ بھگ رہی ہوگی جبکہ عورت کی عمر 25 سے 26 سال ہوگی۔ میجر دانش انکو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ آنے والے مرد نے عورت کو واپس چلنے کا اشارہ کیا اور بولا آ ہی گیا ہے یہ پاکستانی کتا ہوش میں، چل اب اسکے لیے کھانا بھجوا دے۔ میجر دانش نے مرد کو آواز دی اور پوچھا کہ تم کون ہو ؟؟ اور میں کہاں ہوں اسوقت؟؟ مرد نے ایک بار مڑ کی میجر دانش کو دیکھا اور بغیر کوئی جواب دیے واپس چلا گیا۔
کچھ دیر کے بعد دوبارہ سے دروازہ کھلا اور وہی عورت جو پہلے اندر آئی تھی اپنے ہاتھ میں ایک پلیٹ لیے اندر آئی۔ اس نے میجر دانش کے سامنے آکر بڑی حقارت سے اسکے سامنے پلیٹ رکھی اور بولی چل اب کھا لے ۔ یہ کہ کر وہ عورت چپ چاپ واپسی کے لیے مڑ گئی۔ میجر دانش ایک بار پھر چلایا کہ تم کون ہو؟؟ اور میں کہاں ہوں؟ عورت مڑی اور بولی میں کون ہوں تجھے اس سے مطلب چپ کر کے روٹی کھا پھر تجھے ادھر سے شفٹ کرنا ہے۔ میجر دانش نے ایک بار پھر پوچھا اتنا تو بتا دو میں کب سے ہوں ادھر؟؟ اس پر عورت بولی کل رات تجھے باس بےہوشی کی حالت میں لایا تھا اور آج تجھے ہوش آیا ہے۔ یہ کہ کر وہ عورت واپس چلی گئی اور دروازہ ایک بار پھر بند ہوگیا۔
میجر دانش نے پہلے تو حقارت سے کھانے کی طرف دیکھا جیسا کہ کہنا چاہ رہا ہو کہ وہ دشمن کا دیا ہوا کھانا نہیں کھائے گا۔ مگر پھر کھانے پر نظر پڑتے ہی اسکے شدید بھوک محسوس ہونے لگی اور وہ چپ چاپ پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا۔ پلیٹ میں پتلی دال اور ساتھ کچھ روٹیاں پڑی تھیں۔ میجر دانش کے دونوں ہاتھ آپس میں مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے۔ اس نے بہت مشکل سے روٹی کھائی ۔ حیرت انگیز طور پر میجر دانش سارا کھانا کھا گیا اور پلیٹ ایسی صاف کر دی جیسے دھلی ہوئی ہو۔ اسکو شدید بھوک لگی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد میجر دانش نے پھر سے کمرے میں نظریں دوڑائیں تو پورا کمرہ خالی تھا۔ اندر اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ پھر میجر دانش چلایا اور پانی مانگنے لگا۔ مگر شاید اسکی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔
کافی وقت گزرنے کے بعد میجر دانش کو پھر سے دروازے کے پاس کچھ قدموں کی آواز آئی تو اس نے پھر سے پانی کے لیے چلانا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور وہی عورت ہاتھ میں پانی کا جگ لے آئی۔ اور میجر دانش کے سامنے رکھ کر کھانے والی پلیٹ اٹھا کر باہر چلی گئی۔ میجر دانش نے اس بار اس سے کچھ نہیں پوچھا کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ اس سے کوئی جواب نہیں ملے گا۔ لہذا وہ چپ چاپ پانی پینے میں لگ گیا۔ اتنا تو اسکو یقین تھا کہ وہ کرنل وشال کی قید میں ہے۔ مگر اندر آنے والا مرد کرنل وشال ہرگز نہیں تھا۔ اور یہ عورت کون تھی میجر دانش اسکو بھی نہیں جانتا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کب سے اس کمرے میں قید ہے۔
میجر دانش اب آنے والے حالات کے بارے مین سوچنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ مجھے ماریں گے تو نہیں۔ کیونکہ دشمن ہمیشہ اپنے دشمن کو زندہ رکھنے کی ہی کوشش کرتا ہے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ راز اگلوا سکے۔ اب میجر دانش اندازہ لگانے لگا کہ آخر کرنل وشال کونسی معلومات لیکر پاکستان سے فرار ہوا تھا؟؟ اور اب وہ میجر دانش کے ساتھ کیا کرے گا۔ مگر ان میں سے کسی بھی بات کا جواب نہیں تھا میجر کے پاس۔ میجر انہی خیالوں میں گم تھا کہ دوبارہ سے دروازہ کھلا اور ایک لمبا چوڑا آدمی اندر داخل ہوا۔ اسکے پیچھے 2 آدمی اور بھی تھے جو ہاتھ میں گن لیے کھڑے تھے۔ یہ تینوں لوگ شکل سے ہی کسی بدماش گروپ کے غنڈے لگ رہے تھے۔ آگے آنے والے شخص نے میجر دانش کے قریب کھڑے ہوکر اسکو سر کے بالوں سے پکڑا اور کھڑا ہونے کو کہا۔ میجر دانش لڑکھڑاتا ہوا کھڑا ہوگیا اور اس آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کہ تم کون ہو اور میں یہاں کیوں ہوں؟؟ میجر کی آنکھوں میں خوف کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس شخص نے میجر دانش کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا جس سے میجر کا منہ ایک لمحے کے لیے دائیں سائیڈ پر مڑ گیا مگر میجر نے فورا ہی واپس اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور بولا بتاو مجھے تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟؟
اب کی بار بھی میجر کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔ میجر سیدھا کھڑا تھا اسکے پاوں بھی بندھے ہوئے تھے اور ہاتھ بھی۔ میجر کی بات کا جواب دینے کی بجائے اس شخص نے کہا یہاں میں تیری باتوں کے جواب دینے نہیں آیا، جو میں پوچھوں صرف اسکا جواب دے۔ ورنہ یہ پیچھے جو لوگ کھڑے ہیں یہ اپنی بندوق کی ساری گولیاں تیرے جسم میں اتار دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اس شخص کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ میجر دانش نے اپنا سر بہت زور دار طریقے سے سامنے کھڑے شخص کی ناک پر دے مارا جس سے وہ بلبلاتا ہوا پیچھے کی طرف لڑکھڑاتا ہوا 4، 5 قدم پیچھے ہوگیا۔ دانش کی اس حرکت سے پیچھے دو کھڑے لوگوں نے اپنی اپنی بندوقوں کے رخ دانش کے سر کی طرف کر دیے مگر انکے باس نے فورا ہی ہاتھ کے اشارے سے انکو منع کر دیا کہ گولی نہیں چلانی۔
جاري ہے
قسط نمبر. 8 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں
0 Comments