ناقابل برداشت
پہلا حصہ
میرا نام میمونہ ہے۔
عمر پچیس سال اور تعلیم بی کام ہے۔
ایک آفس میں جاب کیلئے اپلائے کیا تو وہاں سے کال آئی اور میں انٹر ویو دینے گئی۔
انٹرویو کے دوران آفس باس میرے جسم کو دیکھ رہے تھے میں سمجھ گئی یہاں مجھے جاب تو ملے گی نہیں کیونکہ مجھے کام کا تجربہ ذیادہ نہیں تھا لیکن پھر بھی باس نے مجھے جاب دے دی اور میں سمجھ گئی کہ باس کو تجربہ سے ذیادہ میرا جسم پسند آیا۔
کیونکہ میں ڈارک بلو رنگ کا ڈریس پہن کر گئی تھی اور میرے بریس کا سائز 34 ہے۔
کچھ دن تک تو سب ٹھیک چلتا رہا لیکن ایک دن جب میں گھر آئی تو باس کا میسج آیا کہ آج تم بلیک کلر میں بہت پیاری لگ رہی تھیں مجھے خوشی ہوئی اور ایسے میں پہلے میسج اور پھر آفس میں مجھے باس اپنے روم بلا کر میری تعریف کرتے مجھے اچھا لگتا کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ میرے جسم کی کشش باس کو مجبور کرتی ہے۔
ایک دن باس نے مجھے میسج پر کہا کہ اگر ممکن ہوتو میں تمہیں بیچ راستے سے پک کرلوں تو میں نے بھی ہاں کردی کیونکہ بس میں سفر کرنے سے میں بھی تنگ آچکی تھی۔
باس نے مجھے پک کیا اور راستے میں مجھے سمجھایا کہ کچھ دن کیلئے میری وائف اپنے میکے جارہی ہے اور ایسے میں اگر میں انکے ساتھ انکے فلیٹ جاکر کچھ فائلز کا کام کروں تو وہ مجھے پروموشن دے سکتے ہیں۔
میرے لئے پروموشن اہم تھا اور میں سمجھ گئی تھیں کہ کس طرح کی فائلز کا کام ہوسکتا ہے پھر پلان کے مطابق طے ہوا اور کچھ دنوں بعد میں باس کے ساتھ اسکے فلیٹ پہنچ گئی۔
باس کا فلیٹ دیکھ کر مجھے اچھا لگا اور پہلی بار اتنا اچھا شاندار گھر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔
میں نے بلیک کلر کے سلکی کپڑے پہنے تھے جسکا گلا بڑا تھا اور نیچے پرپل کلر کا برا۔۔۔
باس نے میرے لئے پانی لایا پانی پی کر باس نے مجھے کہا کہ چائے پیو گے یا ٹھنڈا تو میں نے کہا گرم بہتر رہے گا جس پر باس نے کہا مجھے تو چائے بنانا نہیں آتی تو میں نے کہا میں بنا دیتی ہوں۔۔۔
میں چائے بنانے کیلئے کچن گئی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی اگر باس نے مجھے پیار کرنے کا اشارہ دیا یا کہا تو میں نخرے نہیں کرونگی کیونکہ میرے جسم کی گرمی نے مجھے بہت عرصے سے تنگ کر رکھا تھا اور میں چاہ رہی تھی کہ باس میری گرمی نکال دیں ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ باس میرے بیک سائیڈ آکر کھڑے ہوئے اور میں نے خود کو انجان کردیا اور گرمی کی ایکٹنگ کرنے لگی اور اپنا دوپٹہ سائیڈ پر رکھ دیا۔۔۔
باس میرے قریب آئے اور پیار سے مجھے کہا کہ میمو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں تمیں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
میں نے شرمانے کی ایکٹنگ کی اور کہا کہ ہارون میں تمہاری ہی ہوں اور یوں میرا ارمان پورا ہونے لگا۔۔۔
ہارون نے پیار سے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے کی طرف لائے میں بھی تھوڑا پیچھے ہوئی اور اپنے ہپس ہارون کے ساتھ لگائے۔۔۔
ہارون کے عضو خاص کی سختی مجھے محسوس ہوئی۔۔۔
ہارون نے دونوں ہاتھ اور اوپر کئے اور میرے بریس (مموں) پر ملنا شروع کئے جس سے مجھے کچھ سمجھ نہ آیا بے حد سکون محسوس کرنے لگی۔۔۔
ہارون نے میرے دونوں ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور خوب اوپر نیچے کرنے لگا مجھے بہت مزہ آنے لگا میں نے ہارون کے سامنے ہونا چاہا لیکن اس نے مجھے ہونے نا دیا اور مسلسل میرے ممے دباتا رہا سلکی کپڑوں پر ہارون کے ہاتھوں کا مزہ ہی اور تھا۔۔۔
ہارون نے بیک سائیڈ سے میری گردن چاٹنا شروع کی جس سے مجھے عجیب ہی احساس ہونے لگا۔۔۔
ہارون نے زور دیں کر میرے دونوں ممے دبائے اور اوپر نیچے کرنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ اپنا عضو خاص میری ہپس کے درمیان رگڑنے لگا۔۔۔
مجس سے اب صبر نہیں ہوپارہا تھا اور اپنے ہاتھ پیچھے کی طرف لے جا کر ہارون کو خود میں دبانے لگی۔۔۔
ہارون نے ممے دباتے ہوئے میری قمیض اوپر کی اور اتارنے لگے۔۔۔۔
قمیض اتارنے کی بعد ہارون نے میرے مموں کی نپلز کو زور سے مروڑا جس سے مجھے درد ہو لیکن مزہ بھی آنے لگا۔۔۔
ہارون مسلسل میرے ممے دباتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ میرے دونوں کاندھے چاٹتا رہا مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اور ہارون نے میرے مموں کے نچلے سائیڈ سے بریزر کھینچ کر اتار دیا۔۔۔
میں فوراً سے مڑ کر ہارون کی طرف ہوئی اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے۔۔۔
ہارون کے ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھے۔۔۔
میرا جسم بہت بھرا ہوا سا دیکھ کر ہارون بہت خوش تھا میرا رنگ سانولا ہے پر جسمانی کشش بہت متاثر کن ہے جسے دیکھ کر ہارون نے بھی فائدہ اٹھایا اور فورا سے اپنے ہونٹ میرے سینے پر ملتے ہوئے چاٹنا شروع کردیا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
0 Comments