روح محبت
قسط نمبر 1 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں
قسط نمبر 3
قسط نمبر 2 پڑھنے کہ لئے یہاں کلک کریں
(یہ سٹوری ہمیں ہماری ایک فیسبوک فن نے بھیجی ہے)
ایمان فاطمہ
اس چھوٹی سے گھر میں آج میں مکمل شور شرابہ تھا دلہن کو تیار کرنے کے لئے محلے کی ہی لڑکیاں آئی تھیں
وہ بےجان وجود لئے سب دیکھتی رہی تھی اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ کچھ بولتی سب چپ بیٹھی سب سہہ رہی تھی
اسے مکمل دولہن کا روپ دیا گیا تھا آج کے دن کے لئے راشد کی پہلی بیوی کا جوڑا اسے دیا گیا تھا
مکمل دولہن بنے وہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی
تبھی بارات آنے کا شور اٹھا
ساری لڑکیاں بھاگ کر باہر بھاگی تھیں جبکہ اسکی ہتھیلیوں میں پسینہ آیا تھا اس نے پریشانی سے اپنے ہاتھ مسلے تھے
تبھی باہر سے ایک بار پھر شور کی آواز سنائی دی تھی کچھ انجان لڑکیاں اندر آئی تھیں اور اسے بے حد مہنگا اور نفیس جوڑا پہننے کو دیا تھا وہ بدحواس سی اندر گئی اور منہ دھو کر کپڑے بدل کر آئی تھی اندر آئی لڑکیوں نے ایک بار پھر اسے تیار کیا تھا ہر چیز بے حد نفیس و قیمتی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے ہوش تو تب آیا جب وہ لڑکیاں اسے لئے باہر آئیں
اپنے سامنے راشد کے زخمی وجود کو دیکھ اس نے چھکے چھڑے تھے جب کے ایک طرف روتی دھوتی اسکی ماں اسے گھور رہی تھی اسے کچھ برا ہونے کا خدشہ ہوا تھا۔۔۔۔
وہ دروازہ دھاڑ سے مارتا اپنے آدمیوں نے ساتھ اندر آیا تھا اتنے امیر کبیر آدمی کو دیکھتے وہاں ہر کوئی مرعوب ہوا تھا مگر ہوائیاں تب آتی جب اس نے ایک حکم کر اسکے آدمیوں نے راشد کو دھنک کر رکھ دیا تھا جبکہ بیچ بچاؤ کے لئے آتی شکیلہ بھی ساتھ آئی عورتوں کا شکار بنی تھی۔۔۔
اس نے ایک اشارے پر لڑکیاں عورتوں سے پوچھتی اسکے کمرے میں گئی تھیں اور ٹھیک ایک گھنٹے بعد اسے سنوار کر باہر لائی تھیں
وہ جو بے حس بنا بیٹھا تھا اس کو دیکھتا رہ گیا
لال رنگ کے بہت خوبصورت کام دار جوڑے میں فل میک اپ کے ساتھ اسکا حسن مزید نمایاں ہوا تھا جبکہ دوسری طرف اس اجنبی کو دیکھتی وہ بوکھلا گئی تھی
مگر اتنی ہمت کہاں سے لاتی کہ اپنا منہ کھولتی ماں اور راشد کا حال دیکھ وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی یہ کس نے کیا ہے۔۔
اس کے پاس آتے ہی ارحم نے اسکے لئے اپنے پاس جگہ بنائی تھی
بنا چوں چراں نکاح کرو میں کوئی مظاہمت برداشت نہیں کرونگا اسکے کان میں سرگوشی کرتا وہ اسکے رہے سہے اوسان بھی خطا کرگیا تھا
نکاح شروع کریں۔۔ اسکی آواز میں اتنا رعب تھا کہ کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ بیچ میں بول سکے اس نے مری آواز میں قبول ہے کہا تھا
وہ جو اپنے نصیب سے نالاں تھیں اچانک اس افتاد کر سنبھل بھی نہیں پارہی تھی کہ اسے جھٹکے ہر جھٹکے مل رہے تھے وہ انسان جسے اس نے اپنے خوابوں میں آنے کر بھی پابندی لگا تھی آج پورا کا پورا اسکا تھا۔۔۔
مگر یہ سب اتنا عجیب انداز میں ہورہا تھا کہ وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی ہاں اسنے شکر ادا کیا تھا کہ اس موٹے سے جان چھوٹ گئی تھی۔۔۔۔
نکاح ہوتے ہی وہ اٹھ کر راشد نے سامنے گیا تھا اور اسکا گریبان پکڑ کر جھٹکے سے اسے اوپر اٹھایا تھا
درد کی شدت سے اسکی چیخ نکلی تو وہ استہزایہ ہنسا تھا
کیا ہوا تکلیف ہورہی ہے ؟؟؟ بڑا ضعم ہے نا اپنے مرد ہونے پر اتنی بھی تکلیف برداشت نہیں وہ غرایا اور ایک مکا کھینچ اسنے منہ پر مارا اور مارتا ہی گیا
شکیلہ کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں مگر سب بے حس بنے تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔
رخصتی کرو۔۔۔ ایک حکم دیتا وہ باہر کی جانب بڑھا
تو ساتھ آئی لڑکیاں اسے ساتھ لئے آگے بڑھی تھیں
میرا سامان۔۔۔وہ بوکھلائی تھی
میم وہاں سب سامان موجود ہے آپ آجائیں
اسکا ہاتھ تھامتی وہ اسے باہر لائی تھیں جہاں وہ گاڑی میں بیٹھا اس کا منتظر تھا
اسکے برابر میں بیٹھتے ہی اس نے گاڑی بڑھانے کا حکم صادر کیا تھا۔۔۔۔۔
گاڑی اپنی منزل پر رواں دواں ایک پر آسائش بنگلے کے آگے رکی تھی
ماہے نے حیران نظروں سے وہ محل نما بنگلہ دیکھا تھا ایسا تو بس اس نے سوچا ہی تھا
باہر آؤ ۔۔
اسے حکم دیتا وہ اندر بڑھ گیا جبکہ اس کے یوں رویے پر اسکا دل بجھا تھا پتا نہیں کیوں وہ اسے لایا تھا
اب تو دل میں عجیب طرح کے وسوسے آنے لگے تھے ہول اٹھنے لگی تھی۔۔۔
ان لڑکیوں کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی تھی دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
سامنے بے حد وسیع خوبصورت لان دیکھتی وہ مرعوب ہوئی تھی
جیسے جیسے وہ اندر جارہے تھے اسکی حالت بگڑتی جارہی تھی
اور جیسے ہی اسے اندر لے جایا گیا وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی تھی
ساتھ کھڑی لڑکیاں ایک دم گھبرائی تھیں۔۔۔
جبکہ اندر موجود ارحم ان کی آواز پر بھاگتا باہر آیا تھا اور اسے یوں بے ہوش دیکھ اس کے ماتھے پر شکنیں پڑی تھیں
تم لوگوں کے گھورنے سے یہ ہوش میں نہیں اجائے گی
ان سب کو چھڑکتا وہ اسے بانہوں میں بھرتا لمبے ڈاگ لئے سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔
اسکا کمرہ بے حد خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا تھا اسے بیڈ کے بیچ لڑا کے وہ ایک دم اس پر جھکا تھا
کتنی پیاری تھی وہ۔۔۔اسکا ایک ایک نقش حفظ کرتا وہ دیوانہ ہوا تھا
دل میں کئی جذبات ایک ساتھ جاگے تھے مگر اسے ہوش میں لانا ضروری تھا اس لئے لڑکی کو اندر بھیجتا وہ خود باہر آگیا
بہت مشکل تھا خود پر ضبط کرنا۔۔
تھوڑی دیر بعد اس لڑکی ماہے نور کے ہوش میں آنے کی خبر اسے دی تھی تو وہ تھوڑا ریلکس ہوا۔
اس کے لئے کھانے کا بول وہ خود اسموکنگ روم میں گیا مگر آج سیگریٹ پینے کا دل ہی نہیں تھا
شام سے رات ہوگئی تھی وہ اب بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا جہاں موجود معصوم وجود اسکے ڈر سے آنکھیں موندے پڑا تھا۔۔۔
جارج ہے
0 Comments